تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 751 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 751

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 715 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اللہ تعالی ایسے سامان پیدا کرے گا کہ امریکہ یہ محسوس کرے گا کہ اگر میں نے جلدی قدم نہ اٹھایا تو میرے قدم نہ اٹھانے کی وجہ سے روس اور اس کے دوست بیچ میں گھس آئیں گے پس مایوس نہ ہوں اور خدا تعالیٰ پر توکل کرو۔اللہ تعالٰی کچھ عرصہ کے اندر ایسے سامان پیدا کر دے گا آخر دیکھو یہودیوں نے تیرہ سو سال انتظار کیا اور پھر فلسطین میں آگئے مگر آپ لوگوں کو تیرہ سو سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا ممکن ہے تیرہ بھی نہ کرنا پڑے ممکن ہے دس بھی نہ کرنا پڑے اور اللہ تعالٰی اپنی برکتوں کے نمونے تمہیں دکھائے گا "۔اس آسمانی انکشاف کے بعد کس طرح تغیرات رونما ہوئے۔اور احمدی نوجوانوں نے تحریک آزادی کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لئے کیا کیا خدمات انجام دیں ان پر مستقبل کا مورخ ہی روشنی ڈال سکے گا۔آزادی کشمیر کے لئے دعاؤں کی تحریک خاص سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۸ فروری ۱۹۵۷ء کو آزادی کشمیر کے لئے دعاؤں کی ایک خاص تحریک فرمائی جس کا تذکرہ حضور ہی کے مبارک و مقدس الفاظ میں کرنا ضروری ہے اور اسی پر تحریک آزادی کشمیر کے ساتویں دور کی تاریخ کا اختتام ہو تا ہے حضور نے ارشاد فرمایا :- "ہماری جماعت کے دوستوں کو دعائیں کرنی چاہئیں کہ کشمیر کے قریبا نصف کروڑ مسلمانوں کو اللہ تعالی اپنے منشاء کے مطابق فیصلہ کرنے اور اس پر کار بند رہنے کی توفیق دے اور ایسے سامان پیدا کرے کہ یہ لوگ جبری غلامی میں نہ رہیں۔بلکہ اپنی مرضی سے جس ملک کے ساتھ چاہیں مل جائیں اور اگر کوئی تحریک اس بات میں روک بنتی ہو تو خداتعالی اسے کامیاب نہ کرے۔پھر اللہ تعالے ہمارے اہل مملکت کو بھی ایسی سمجھ عطا فرمائے کہ وہ وقت پر ہوشیار ہو جا ئیں اور دیکھیں کہ کون شخص انہیں سیدھے رستہ سے ہٹا رہا ہے اور ہمیشہ وہ طریق اختیار کریں جو پاکستان کی عزت اور سرفرازی کا موجب ہو اور کشمیر کی عزت اور سرفرازی کا بھی موجب ہو۔۔۔۔چونکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اس لئے کشمیر بھی ہمیں بہت پیارا ہے پھر کشمیر ہمیں اس لئے بھی پیارا ہے کہ وہاں قریباً ۸۰ ہزار احمدی ہیں اور بعض ایسے علاقے ہیں جن کی رائے کے مطابق کشمیر یا ہندوستان میں جا سکتا ہے یا پاکستان میں جاسکتا ہے ان میں احمدیوں کی اکثریت ہے۔۔۔پس ہمیں دعائیں کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالٰی ہمارے کشمیری بھائیوں کی مدد کرے۔آخر کشمیر وہ ہے جس میں مسیح اول دفن ہیں اور مسیح ثانی کی بڑی بھاری جماعت اس میں موجود ہے۔۔۔۔صبح اول نہ ہندو تھے اور نہ عیسائی تھے اور مسیح ثانی بھی نہ ہندو تھے نہ عیسائی تھے