تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 51 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 51

فرمائی۔51 خلافت ثانیہ کا بند رهوار جولائی ۱۹۲۸ء کو ایک انگریز مسٹر مردین نے حضور سے ملاقات کی۔مسٹر مردین نے پوچھا کہ کیا لندن مسجد میں دو سرے مذاہب کے لوگ بھی داخل ہو سکتے ہیں حضور نے فرمایا۔یہ اعلان تو ہم نے افتتاح مسجد کے موقعہ ہی پر کر دیا تھا کہ مسجد کا دروازہ سبھی کے لئے کھلا ہے اس ضمن میں حضور نے تاریخ اسلام کا یہ مشہور واقعہ بھی بیان فرمایا کہ کس طرح آنحضرت نے وھ میں نجران کے ساتھ عیسائیوں کو مسجد نبوی میں اتارا۔ان سے گفتگو فرمائی اور ان کو مسجد ہی میں عبادت کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔چنانچہ ان لوگوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی نماز ادا کی۔۹/ جولائی ۱۹۲۸ء کو بابو شیخ محمد صاحب وکیل گورداسپور ملاقات کے لئے آئے۔جن سے تحصیل شکر گڑھ کے مسلمانوں کی تعلیمی حالت اور اچھوت اقوام میں تبلیغ سے متعلق گفتگو ہوئی ان رکاوٹوں کا ذکر کیا جو کچھ عرصہ ہوا احمدی مبلغوں کو امن علاقہ کی اچھوت اقوام میں تبلیغ کرتے وقت خود مسلمانوں کی طرف سے پیش آئی تھیں۔10+ اسی روز مشرف حسین صاحب ایم اے دہلوی انسپکٹر ڈاک خانہ جات سے دہلی کے شاہی خاندانوں کی تباہی اور پرانے اہل علم گھرانوں کی نسبت بہت گفتگو ہوئی۔اس ضمن میں حضور نے اسلامی پردہ کی وضاحت بھی فرمائی۔11 جولائی ۱۹۲۸ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسٹراے۔اے لین را برٹس ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع گورداسپور اور مسٹر انڈرسن سشن جج صاحب گورداسپور کو اپنی کو تھی پر چائے کی دعوت دی اور ایک گھنٹہ کے قریب سلسلہ احمدیہ کے معاملات سے متعلق انگریزی میں گفتگو فرمائی۔۱۲ جولائی ۱۹۲۸ء کو جنرل لک صاحب افسر افواج کے اعزاز میں سردار مکھن سنگھ صاحب رئیس نے ایک پارٹی سٹفل ہوٹل میں دی۔جس میں معززین شہر کے ساتھ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی (مع حضرت مفتی محمد صادق صاحب و شیخ یوسف علی صاحب) بھی مدعو تھے۔اس پارٹی میں کئی ایک ہندوستانی شرفاء اور انگریز حکام سے سلسلہ احمدیہ اور دیگر امور پر گفتگو ہوتی رہی۔پارٹی کے بعد میاں حق نواز صاحب بیر سٹرایٹ لاءولا ہو ر اور ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب ممبر یو۔پی کونسل حضور کی ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ان اصحاب نے احمدیہ مشن لندن کی تبلیغی مساعی کی بہت تعریف کی اور پھر سیاسیات ہند کی نسبت حضور سے گفتگو کی۔اسی روز سردار ہر چند سنگھ صاحب جے جی رئیس و جاگیردار ریاست پٹیالہ بھی حضور کی ملاقات کے لئے آئے۔۱۳ جولائی ۱۹۲۸ء کو ایک سکھ سردار شکه فتح جنگ صاحب آف سدھو وال آئے۔اور بہت دیر