تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 729
تاریخ احمدیت - جلد ۵ 701 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (۳) تنویر کمپنی (۴) شوکت کمپنی (۵) عظمت کمپنی۔۔۔صورت حال یہ تھی کہ ہندوستانی غیر مملوکہ علاقہ (NO MAN LAND) پر پورا تسلط جما چکے تھے اور ان کے شبانہ پٹرول فرقان بٹالین کے اگلے مورچوں تک بلا روک ٹوک پہنچتے تھے اور ان کے جاسوس ان مورچوں کے عقبی دیہات میں کثرت سے پھیلے ہوئے تھے اور مقامی باشندوں سے اہم خبریں ہندوستانیوں کو پہنچایا کرتے تھے فرقان فورس کے اپنی پوزیشن لے لینے پر ہندوستانی سپاہیوں نے مسلسل ہوائی اور بری حملے کئے تانئی بٹالین کو پسپا کر دیا جائے فرقان بٹالین کے جو ان اگر چہ آزمودہ کار نہ تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہندوستانی چوکیوں پر پے درپے حملے کئے اور ان کے جاسوسوں کا صفایا کر کے بھارتی سپاہیوں کو اپنے مورچوں میں محصور ہو جانے پر مجبور کر دیا۔سیکٹر ہیڈ کوارٹر نے یہ خوشگوار تبدیلی دیکھتے ہوئے ہندوستانیوں کو ان کے محفوظ مقامات سے پیچھے دھکیلنے کے لئے ایک حملے کی تیاری شروع کردی جس کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانیوں میں ہر اس پیدا کر کے ان کے حوصلوں کو تو ڑ دیا جائے تاکہ ان کے لڑنے کا عزم ٹوٹ جائے اور جب وسیع حملہ شروع ہو اس وقت ہمارا کام زیادہ سہل ہو۔فورس کے جوان نہ صرف دادی سعد آباد میں اپنی جنگی کارروائیاں آزادانہ کرتے تھے بلکہ وہ ہندوستانیوں کی حفاظتی چوکیوں کے عقب تک بھی چلے جایا کرتے تھے انہوں نے بھارتی سپاہیوں سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرلیں۔اب پوری فوج حملہ کے لئے بالکل تیار تھی۔مگر افسوس یو این اد کی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بند کر دی گئی لہذا فرقان فورس نے بدلے ہوئے حالات میں اپنی ذمہ داریوں کا نئے سرے سے جائزہ لیا اور ہندوستانی خطہ دفاع کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر اپنی مضبوط چوکیوں کا سلسلہ قائم کرنا شروع کر دیا بھارتی سپاہیوں پر اس کا شدید رد عمل ہوا انہوں نے فورس کی چوکیوں پر توپوں اور ہوائی جہازوں سے زبر دست بمباری شروع کردی مگر ہندوستانی اپنی تعداد اور طاقت کی برتری کے باوجود اپنا کھویا ہوا علاقہ واپس نہ لے سکے اور مجاہدوں نے دادی سعد آباد کو ہندوستانیوں پر بند کر دیا۔اور اس ۵ میل لمبی ۲ میل چوڑی دادی پر قبضہ کر کے پاکستانی ملاقہ میں شامل کر لیا۔یہ وادی اس علاقہ کی زرخیز ترین وادی ہے جس میں اب سینکڑوں مہاجر خاندان بس رہے ہیں۔کے فرقان بٹالین کے لئے نقل و حمل کے وسائل درد سر بنے ہوئے تھے مسلسل ہوائی حملوں کی وجہ سے تمام رسید رات کے وقت پہنچائی جاتی تھی اندھیری راتیں، بارش کیچڑ تنگ پگڈنڈیاں فوج کے لئے مشکلات کا باعث بن رہی تھیں اور اس وجہ سے اکثر اوقات جوانوں کو بروقت راشن نہ پہنچنے کی وجہ