تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 730 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 730

تاریخ احمدیت جلد ۵ 702 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سے قلیل مقدار پر ہی گزارہ کرنا پڑتا تھا۔مگر اس ماحول میں بھی جوانوں کا حوصلہ ہمیشہ بلند رہا۔میدان جنگ میں حضرت سید نا المصلح الموعود ( اور فوجی اشارات میں امین الملک) بھی تشریف لے گئے حضور کی تشریف آوری سے احمدی جوانوں میں نیا جوش نئی امنگ اور نیا ولولہ پیدا ہو گیا۔اور ان کے حوصلے غیر معمولی طور پر بڑھ گئے۔فرقان بٹالین کی مزید تفصیلات تو دور پاکستان کی تاریخ میں آئیں گی۔یہاں صرف ایک چھوٹا سا واقعہ بتایا جاتا ہے۔جس سے جوانوں کی اس روح کا پتہ چلتا ہے جس کے ساتھ انہوں نے جنگ کشمیر لڑی۔جنگی پوزیشن لینے کے دو دن کے بعد ہمارے سپاہیوں کو ہراساں کرنے کے لئے ایک شب طاقتور پٹرول بھیجی گئی جس کے نتیجہ میں دونوں طرف سے گولیاں چلنی شروع ہو گئیں ہندوستانیوں نے فرقان فورس کے مورچوں پر شدید گولہ باری شروع کر دی اور فرقان کے سپاہی سمجھے کہ شاید حملہ شروع ہو گیا ہے ایک مختصری جھڑپ کے بعد ہندوستانی پسپا ہو گئے اور گولیاں چلنی بند ہو گئیں۔اس کے بعد حسب معمول جب پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ ہسپتال سے ایک بیمار سپاہی غائب ہے یہ بھی پتہ چلا کہ جب گولیاں چل رہی تھیں تو وہ چپکے سے اپنے بستر سے اٹھ کر اندھیرے میں پہاڑی پر چڑھ گیا اور اپنے دستہ میں شامل ہو گیا۔جہاں اس نے مشین گن کے سپاہی کے ساتھ ڈیوٹی ادا کی۔اس مشقت کی وجہ سے اس کی طبیعت اور بھی خراب ہو گئی اگلے روز ا سے جب کمان افسر کے سامنے جواب دہی کے لئے پیش کیا گیا تو اس نے اقبال جرم کر لیا، لیکن ساتھ ہی یہ بیان بھی دیا کہ جب اس کے سیکشن پر حملہ ہوا تو وہ یہ برداشت نہ کر سکا کہ اس کے ساتھیوں پر حملہ ہو چکا ہو اور وہ بستر میں پڑا رہے اسے گو اس " حرکت " پر تنبیہ تو کی گئی لیکن جس جذبہ کے ساتھ اس نے یہ کارنامہ انجام دیا تھاوہ ایک قابل تحسین اثر اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔فرقان بٹالین کے مجاہدوں پر ایک نظر فرمان مالین کے مجاہد عام طور پر چار اقسام پر مشتمل تھے۔اول پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسر جس میں کرنل سردار محمد حیات صاحب قیصرانی سب سے ممتاز ہیں۔محاذ جنگ میں بٹالین کے سب سے پہلے کمانڈر آپ ہی تھے۔اور اس کے تنظیمی اور دفاعی کارناموں میں آپ کی مجاہدانہ کوششوں کا بھاری دخل ہے آپ کے علاوہ میجر وقیع الزمان صاحب (سیکنڈ ان کمانڈ) میجر حمید احمد صاحب کلیم۔میجر عبد الحمید صاحب، میجر عبد الله صار صاحب اور کپٹن نعمت اللہ صاحب شریف نے مختلف کمپنیوں کی خوش اسلوبی سے کمان کی۔اور میجر وقیع الزمان صاحب فرقان کیمپ کے نوجوانوں کو ٹرینگ بھی دیتے رہے۔