تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 728 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 728

700 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ فوجی کیمپ قائم کیا گیا۔حضور نے اس بٹالین میں رضا کار بھجوانے اور دوسرے ضروری انتظامات کرنے کا کام ایک کمیٹی کے سپرد فرمایا جو مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل تھی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (صدر) آپ فرقان بٹالین کے اشارات میں ” فاتح الدین" سے موسوم ہوتے تھے۔مولوی عبد الرحیم صاحب درد (سیکرٹری) سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب (ناظر امور عامه) مولوی عبد المغنی خاں صاحب ( ناظر دعوة و تبلیغ ) اس کمیٹی کا دفتر ” قیام امن کے نام سے موسوم تھا۔فرقان بٹالین کے دو سالہ مجاہدانہ کارنامے فرقان بٹالین جون ۱۹۴۸ء سے جون ۱۹۵۰ء تک قائم رہی۔جس کی قیادت کے فرائض شروع میں (کرنل) سردار محمد حیات صاحب قیصرانی نے بعد ازاں کرنل صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے انجام دیئے صاحبزادہ صاحب فرقان کی فوجی اصطلاح میں ” کلید" کے نام سے یاد کئے جاتے تھے۔فرقان کیمپ اور محاذ جنگ دونوں کا انتظام براہ راست کلید کے ماتحت تھا فرقان کیمپ کا افسر زبیر اور محاذ جنگ کا امیر عالم کباب کہلاتا تھا۔فرقان بٹالین کی تعداد اسلحہ اور دیگر سامان کی مقدار پر منحصر تھی جسے جنرل ہیڈ کوارٹر نے منظور کرنا تھا۔اور وہاں سے صرف ایک بٹالین کی منظوری تھی کو اس امر کا ساتھ ہی فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ ضرورت پڑنے پر اس فوج کا تین بٹالین تک اضافہ کیا جاسکے گا۔فورس کی ٹریننگ اور اسلحہ بندی کے لئے صرف ایک ماہ کا عرصہ کافی سمجھا گیا۔ٹریننگ پروگرام تیار کئے گئے اور رضاکاروں کو جلدی جلدی مثلاً ہتھیاروں کا استعمال - میدان جنگ کی سوجھ بوجھ (FIELD CRAFT) پٹرولنگ وغیرہ کی ٹریننگ دے دی گئی۔بریگیڈیئر کے ایم شیخ محمود ما اس فورس کا معائنہ کرتے اور ہر بار اس کی ٹریننگ کی رفتار اور نوجوانوں کے شوق سے نہایت مطمئن ہو کر لوٹتے تھے۔۱۰ جولائی ۱۹۴۸ء کو بٹالین محاذ جنگ باغسر (بربط) کی طرف روانہ ہوئی زبردست بارشوں کی وجہ سے راستے معدوم ہو کر بہہ گئے تھے ان حالات میں آگے بڑھنا بلا وجہ خطرات مول لینے کے مترادف تھا اس لئے بٹالین نے رات کو سیکٹر ہیڈ کواٹر پر قیام کیا۔جو یہاں ہیڈ کوارٹر کے نام سے موسوم تھا آدھی رات کے بعد فضا توپ کے گولوں سے گونج اٹھی۔اگلے روز اس امر کا انکشاف ہوا کہ ہندوستانیوں کو بٹالین کے آگے بڑھنے کی کسی طرح اطلاع مل گئی تھی۔اور یہ گولہ باری انہیں کے آگے بڑھنے والے راستوں پر کی گئی تھی اس واقعہ سے ہر کمانڈر کو یقین ہو گیا کہ خبروں کے نکل جانے کے سلسلہ میں کڑے انتظامات کرنے چاہیں تاہندوستانیوں کو ہماری خبریں نہ مل سکیں۔اگلی رات فرقان بٹالین نے اپنے مورچے سنبھال لئے اور بٹالین پانچ کمپنیوں میں تقسیم کر دی گئی۔(۱) نصرت کمپنی (۲) برکت کمپنی