تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 722
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 694 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه سکتا ہے کہ ملک کی اکثریت جس امر کا فیصلہ کرے اس طرف ریاست جا سکتی ہے۔اگر اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے تو کشمیر پاکستان کے ساتھ ملنے پر مجبور ہو گا۔اور حیدر آباد ہندوستان کے ساتھ ملنے پر مجبور ہو گا۔اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو یہ فائدہ حاصل ہو گا کہ بہتیں لاکھ مسلمان آبادی اس کی آبادی میں اور شامل ہو جائے گی۔لکڑی کا بڑا ذخیرہ اس کو مل جائے گا بجلی کی پیداوار کے لئے آبشاروں سے مدد حاصل ہو جائے گی اور روس کے ساتھ اس کی سرحد کے مل جانے کی وجہ سے اسے سیاسی طور پر بڑی فوقیت حاصل ہو جائے گی۔۔۔پاکستان کا فائدہ اسی میں ہے کہ کشمیر اس کے ساتھ شامل ہو حیدر آباد کی حفاظت کرنی اس کے لئے مشکل ہے۔۔۔کشمیر کالمبا ساحل پاکستان سے ملتا ہے۔کشمیر کی معدنی اور نباتاتی دولت ان اشیاء پر مشتمل ہے جن کی پاکستان کو اپنی زندگی کے لئے اشد ضرورت ہے اور کشمیر کا ایک ساحل پاکستان کو چین اور روس کی سرحدوں سے ملا دیتا ہے یہ فوائد اتنے عظیم الشان ہیں کہ ان کو کسی صورت میں بھی چھوڑنا درست نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔پس ملک کے ہر اخبار ہر انجمن ہر سیاسی ادارے اور ہر ذمہ دار آدمی کو پاکستان کی حکومت پر متواتر زور دینا چاہئے کہ حیدر آباد کے فیصلہ سے پہلے پہلے کشمیر کا فیصلہ کروالیا جائے۔ورنہ حیدر آباد کے ہندوستان یونین سے مل جانے کے بعد کوئی دلیل ہمارے پاس کشمیر کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لئے باقی نہیں رہے گی۔سوائے اس کے کہ کشمیر کے لوگ خود بغاوت کر کے آزادی حاصل کریں لیکن یہ کام بہت لمبا اور مشکل ہے اور اگر کشمیر گورنمنٹ ہندوستان یونین میں شامل ہو گئی۔تو پھر یہ کام خطرناک بھی ہو جائے گا کیونکہ ہندوستان یونین اس صورت میں اپنی فوجیں کشمیر میں بھیج دے گی اور کشمیر کو فتح کرنے کا صرف یہی ذریعہ ہو گا کہ پاکستان اور ہندوستان یونین آپس میں جنگ کریں۔۔۔۔۔جو کام تھوڑی کی دور اندیشی اور تھوڑی سی عقلمندی سے اس وقت آسانی سے ہو سکتا ہے اسے تغافل اور سستی کی وجہ سے لٹکا دینا ہر گز عقلمندی نہیں کہلا سکتا۔مجاہدین کشمیر کی اعانت کے لئے اپیل حضرت خلیفتہ المسیح الثانی شروع سے اس کوشش میں تھے کہ اہل ملک میں مجاہدین کشمیر کی موسمی ضروریات کو پورا کرنے کی طرف خاص توجہ پیدا ہو جائے۔چنانچہ حضور نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کے لئے مسلسل اپلیں کیں اور پناہ گزینی کے عالم میں ہونے کے باوجود خود بھی اس کار خیر میں حصہ لیا۔اور جماعت کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔اس سلسلہ میں حضور نے ۱۲/ نومبر۷ ۱۹۴ء کو ملک میں کشمیر فنڈ کے قیام کی بھی تحریک کی اور فرمایا۔ہم تمام مسلمانوں کی توجہ اس طرف پھراتے ہیں کہ اس وقت بخل سے کام نہ لیں کیونکہ کشمیر کا