تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 720 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 720

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 692 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو خواجہ غلام نبی گلکار نے آزاد کشمیر حکومت کے قیام کا اعلان کیا تو اس میں کا بینہ کے دیگر اراکین کے ناموں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر بشیر محمود وانی کا نام بطور ڈائریکٹر میڈیکل سروسز کے شامل تھا۔ڈوگرہ حکومت کو ڈاکٹر بشیر محمود کے مخفی منصوبوں کا پتہ چل گیا اور ان کے کئی ایسے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا جو مقبوضہ کشمیر میں تھے مگر ڈاکٹر صاحب سرینگر سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔حکومت نے ان کا سارا سامان ضبط کر کے نیلام کر دیا۔ادھر آزاد کشمیر میں جنگ آزادی شروع ہو چکی تھی۔انہوں نے محاذ جنگ پر طبی امداد کا سلسلہ جاری کیا۔ڈسپنسریاں کھولیں اور ادویات کی ترسیل کا بند و بست کیا۔وہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اگلے مورچوں پر پہنچتے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے۔ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات انہیں سواری نہ ملتی تو وہ پیدل ہی چل پڑتے۔انہوں نے اپنی جنگی خدمات کا نہ تو کوئی معاوضہ لیا اور نہ ہی تنخواہ۔ان کے بیوی بچے راولپنڈی میں تھے۔مگروہ خود پونچھ کے محاذ پر سرگرم رہے۔ان ایام میں انہوں نے اپنی اہلیہ محترمہ کو ایک خط میں لکھا۔پونچھ شہر فتح ہونے والا ہے۔ہماری آزاد فوج بڑھ چڑھ کر لڑ رہی ہے میں پونچھ سے چند میل کے نظریں جمائے منتظر ہوں اور ہاتھ میں ٹیلیفون لئے بیٹھا ہوں۔جوں ہی شہر فتح ہونے کی خبر آئے گی میں گھوڑا دوڑا کر وہاں پہنچوں گا اور اپنے ہاتھ سے تیرہ ہندوستانیوں کو قتل کروں گا۔جنہوں نے میرے خاندان کے تیرہ افراد کو شہید کیا ہے۔مگر افسوس ڈاکٹر صاحب مرحوم کی یہ آرزو پوری نہ ہو سکی اور جنگ بندی نے پونچھ کی مکمل فتح میں رکاوٹ ڈال دی۔سردار محمد ابراہیم خان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بشیر محمود ہوائی حملوں کی صورت میں بھی فاصلے اپنا کام جاری رکھتے اور شہیدان وطن کی لاشوں کو محاذ جنگ سے اٹھا کر لاتے اور سپرد خاک کرتے۔آزاد کشمیر حکومت کی تشکیل کے موقع پر آپ کو ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز مقرر کیا گیا تھا۔اس ہنگامی اور جنگی دور میں انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ سر انجام دیا مگر جوں ہی حالات اعتدال پر آئے حکومت پاکستان نے دیگر کلیدی اسامیوں کی طرح اس عہدے کے لئے بھی پاکستان سے ڈائریکٹر مقرر کر دیا۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے نئے آفیسر کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا اور خود نہایت خاموشی سے ڈپٹی دائریکٹر کا عہدہ لے لیا۔ڈاکٹر صاحب مرحوم کے اس جذبہ اور ایثار کو جنرل ہیڈ کوارٹر اور حکومت آزاد کشمیر نے بے حد سراہا اور غازی کشمیر کے خطاب سے نوازا۔ڈاکٹر بشیر محمود قومی ضیاع کو برداشت نہ کر سکتے تھے۔ہر کام کی خود نگرانی کرتے تھے اور اگر کسی وقت کوئی ماتحت حاضر نہیں تو اس کا کام بھی خوری سرانجام دیتے۔یہی خوبی ان کی وفات کا موجب بنی۔