تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 717
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 689 مورخ کشمیر پریم ناتھ بزاز تاریخ جد و جهد حریت کشمیر تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ "HISTORY OF THE STRUGGLE FOR FREEDOMIN KASHMIR" میں لکھتے ہیں۔انور غلام نبی گلکار کے سوا کوئی اور نہ تھا جو مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی کے ایک ممبر اور تحریک آزادی کا ایک قدیم آزمودہ کار سپاہی ہے جس نے صوبائی انقلابی حکومت آف آزاد کشمیر کی سرکردگی کی۔( ترجمہ ) پھر لکھتے ہیں۔قبل اس کے کہ مسٹر گل کار مہاراجہ کشمیر کو دیکھ بھی سکتے۔۔لڑائی پھوٹ پڑی اور صوبائی حکومت کے رئیس اپنے ہیڈ کوارٹرز کو واپس نہ آسکے اس کے بعد یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ وہ (گل کار صاحب۔ناقل) دسمبر ۱۹۴۷ء میں گرفتار کرلئے گئے اور ڈوگرہ حکومت کی طرف سے جیل خانہ میں بھیج دیئے گئے لیکن بغیر یہ علم دیئے کہ وہ آزاد حکومت کا پہلا صدر ہے مسٹر گل کار سرینگر میں مسٹر عبد اللہ سے قید ہونے سے پہلے ملے اور ان کے ساتھ گفتگو کی۔لیکن انہوں نے اس کی شناخت کو ظاہر نہ کیا۔(ترجمہ) مغربی مورخ لارڈ برڈ وڈ اپنی کتاب "دو قومیں اور کشمیر" میں تحریر کرتے ہیں۔حکومت آزاد کشمیر کی بنیاد ۴ اکتوبر۷ ۱۹۴ء کو پڑی تھی اور اس کے پہلے صدر خواجہ غلام نبی گل کار تھے اور سردار محمد ابراہیم خان اس حکومت کے پرائم منسٹر تھے جو خواجہ غلام نبی گلکار مظفر آباد سے اندرون کشمیر چلے گئے تو اس کے بعد ۲۴/ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو زمام حکومت سردار محمد ابراہیم کے ہاتھ میں آگئی۔(ترجمہ) غازی کشمیر ڈاکٹر بشیر محمود وانی شہید جناب کلیم اختر صاحب لکھتے ہیں۔کشمیر کی ڈوگرہ حکومت اور مفاد پرست عناصر نے کشمیری مسلمانوں کے متعلق یہ تاثر پیدا کر رکھا تھا کہ کشمیری قوم بزدل اور اذیت پسند ہے اور ان کی بزدلی ہی ان کی محکومی اور غلامی کی سب سے بڑی وجہ ہے مگر تحریک آزادی کشمیر کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ کشمیری مسلمان ریاست کے کسی بھی حصہ کے میں کیوں نہ ہوں۔ہر دور میں طاغوتی اور سامراجی قوتوں سے نبرد آزما رہے ہیں۔انہوں نے اپنے خون سے بے مثال قربانیوں اور جذبہ ایثار سے جدوجہد آزادی کو آگے ہی بڑھایا ہے۔ڈاکٹر بشیر محمود وانی شہید بھی اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں حکومت آزاد کشمیر نے " غازی کشمیر کے اعزاز سے نوازا اور ان کی قومی وملی خدمات جلیلہ کا اعتراف کیا ہے۔ڈاکٹر بشیر محمود کے والد ماجد کا نام ڈاکٹر محمد رمضان تھا۔آپ اسلام آباد (کشمیر) کے رہنے والے