تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 715
تاریخ احمدیت - جلد ۵ 687 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کیونکہ اس وقت حالت یہ تھی کہ مغربی پاکستان اور کشمیر کی آزادی دونوں خطرے میں نظر آرہی تھیں۔اور عارضی حکومت کا اعلان اخبارات میں چھپ چکا تھا۔مگران مذکورہ بالا آدمیوں کے سوا کسی کو علم نہ تھا کہ یہ اعلان کس نے کیا اور کیسے ہوا؟ خواجہ غلام نبی گلکار انور صاحب بانی صدر ۱۸ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے مکان واقع سوورہ سرینگر پر ملے ۲ گھنٹے باتیں ہوئیں۔آخر میں یہ طے پایا کہ ان کے اور قائد اعظم کے درمیان ملاقات کا بندوبست کر دیا جائے۔۷ اکتوبر ۱۹۴۷ء سے لے کر ۲۲ اکتوبر ۱۹۴۷ء تک گویا ۱۵ یوم کے عرصہ میں چھان بین کر کے حسب ذیل وزراء اور عہدیدار مقرر ہوئے۔وزیر تعلیم مسٹر علیم (ڈاکٹر نذر الاسلام صاحب پی۔ایچ۔ڈی) وزیر صحت و صفائی مسٹر لقمان (ڈاکٹر وزیر احمد صاحب قریشی مرحوم۔۔۔۔۔سابق ملحقہ آفیسر سرینگر) وزارت زراعت مسٹر فیم (اندرون کشمیر ہیں) وزیر عدل و انصاف مسٹر انصاف (اندرون کشمیر ہیں) وزیر صنعت و حرفت مسٹر کار خانہ (اندرون کشمیر ہیں) گورنر کشمیر مسٹر شمس النهار (اندرون کشمیر ہیں) ڈائریکٹر ریشم خانہ مسٹر یشیم الدین- (اندرون کشمیر ہیں) ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر بشیر محمود صاحب وانی مرحوم آف پونچھ۔چیف انجینئر مسٹر انعام (خلیفہ عبد المنان صاحب) انسپکٹر جنرل پولیس مسٹر حکیم صاحب، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس مسٹر سٹیم (محمد اکبر کیانی صاحب) سیکرٹری فار ٹرانسپورٹ مسٹر رحمت اللہ صاحب آف چراغ دین اینڈ سنز- ڈپٹی پبلسٹی آفیسر منور (خواجہ عبد الغفار صاحب ڈار) انڈر گراؤنڈ گورنمنٹ کی تشکیل کے بعد فوجی رضا کاروں کو منظم کرنے کے لئے مسٹر جون (اندرون کشمیر ہیں) کو کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا اور ہری سنگھ کی گرفتاری کی سکیم کی تعمیل پر غور ہو تا رہا اور سکیم کا بہت سا حصہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔اس میں کمپٹن بدر الدین صاحب کیپٹن جمال الدین صاحب مرزا میاں عبدالرشید ایم۔ایل۔اے ، سجادہ نشین درگاہ کنیا شریف اور بہت سے دوست تھے جو اندرون کشمیر میں مقیم ہیں۔اس شعبہ کے اجلاس کارو نیشن ہوٹل متصل لال چوک امیرا کدل ہوتے رہے " - 21 -1 سردار گل احمد خان صاحب کے مندرجہ بالا بیان کی تائید و تصدیق متعدد ذرائع سے ہوتی ہے۔چنانچہ مسٹر ریڈی نے انہی دنوں پاکستان سے ہندوستان میں پہنچنے کے بعد پاکستان کا بھانڈا چوراہے پر " نامی ایک کتابچہ شائع کیا۔جس میں لکھا کہ "آزاد کشمیر کا قیام مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کے دماغ کا نتیجہ ہے جس کا پروگرام انہوں نے رتن باغ لاہور میں بنایا تھا۔۴/ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو حکومت آزاد کشمیر کا قیام در اصل اس پروگرام کا ابتدائی اقدام تھا۔