تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 707 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 707

تاریخ احمدیت جلد ۵ 679 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ پیشواؤں کو پانچ سو روپیہ کا انعامی چیلنج دیا کہ قرآن مجید سے گائے کا ذبیحہ ثابت کر دکھا ئیں۔جماعت احمدیہ سرینگر انے یہ چیلنج منظور کر لیا۔اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حکم پر مهاشہ محمد عمر صاحب سرینگر پہنچ گئے مگر سناتیوں نے انعامی چیلنج واپس لے لیا اور معافی مانگ لی۔کشمیر ایجی ٹیشن کے متعلق چند خیالات چوہدری غلام عباس صاحب اپنی کتاب کشمکش " میں لکھتے ہیں کہ۔۱۹۳۵ء میں حضرت قائد اعظم (مسٹر محمد علی جناح ناقل) سرینگر تشریف لائے تھے مسلم کانفرنس کی جانب سے ان کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا گیا تھا اس وقت صدر میں ہی تھا۔۔۔۔۔سپاسنامہ کے جواب میں حضرت قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ریاست میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت کی وجہ سے مسلمانوں کے لیڈروں کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف غیر مسلموں کی تالیف قلوب کریں بلکہ ان کو سیاسی گاڑی کا ایک پہیہ سمجھ کر ساتھ چلائیں " - BI قائد اعظم نے واقعی یہ مشورہ دیا یا نہیں اور دیا تھا تو کس رنگ میں ؟ اس امر سے قطع نظر ہمیں یہ بتانا ہے کہ اس مشورہ کا رد عمل ۱۹۳۸ء میں یہ ہوا کہ برطانوی ہند میں نئی اصلاحات کے نفاذ کے کچھ عرصہ بعد کشمیر کے مسلمان لیڈر دوسرے اقلیتی نمائندوں کے ساتھ ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے اور اپنے مطالبات منوانے کے لئے ایجی ٹیشن شروع کر دی۔سیاسیات کشمیر کے اس نازک موڑ پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کشمیر ایجی ٹیمیشن ۱۹۳۸ء کے متعلق چند خیالات" کے عنوان سے ایک پمفلٹ شائع فرمایا۔جس میں خداداد بصیرت کی روشنی میں مسلمان لیڈروں پر یہ واضح فرمایا کہ فریقین کی طرف سے باہمی حقوق کے واضح تصفیہ کے بغیر اس سمجھوتہ کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔اور اس کے تلخ نتائج ظاہر ہوں گے۔چنانچہ جموں کے اخبار ”دیش سیوک" نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔" مرزا محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک پمفلٹ بعنوان "کشمیر ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ ء کے متعلق چند خیالات " شائع کیا گیا ہے۔جس میں آپ نے ایجی ٹیشن موجودہ کے متعلق اظہار فرماتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ تاوقتیکہ آپس میں دونوں قوموں کا حقوق کے متعلق کوئی معاہدہ نہ ہو جائے ایجی ٹیشن کو چلانا بالکل فضول ہے۔بلکہ ایسی ایجی ٹیشن بعد میں فساد اور بد امنی کا باعث ہوا کرتی ہے۔اس لئے سب سے پہلے کوئی آپس میں معاہدہ ہونالازمی ہے۔تب ایک مقصد کے لئے قربانیاں سود مند ثابت ہو سکیں گی"۔جماعت احمدیہ اور نیشنل کانفرنس افسوس زعماء کشمیر نے کشمیری مسلمانوں کے اس محسن اعظم کی آواز پر کان دھرنے کی بجائے ۱۰/ جون ۱۹۳۹ء کو اپنی واحد نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس " نیشنل کانفرنس " میں بدل دی۔اس تبدیلی کے