تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 708
تاریخ احمدیت جلد ۵ 680 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ جواز میں ایک طرف "معاہدہ مدینہ " اور " صلح حدیبیہ پیش کی گئی اور دوسری طرف یہ نقطہ نگاہ رکھا " گیا کہ ”سیاسی دنیا میں مذاہب کو اس حد تک کھیر دیتا کہ وہ پھندا بن جائے صحیح طریق نہیں۔اس ضمن میں جموں کے ایک مشہور مسلمان نے اپنی تقریر میں یہاں تک کہہ دیا کہ۔۱۹۳۱ء سے لے کر آج تک جو کچھ ہم نے کیا وہ صرف فرقہ وارانہ پلیٹ فارم سے کیا۔اور وہ عام حالات میں مسلمانوں کے مذہبی اور سیاسی حقوق کی بہبودی کے لئے کیا۔کیونکہ ریاست کی اسی فیصدی مسلمان آبادی نهایت مظلومانہ زندگی بسر کر رہی تھی۔آٹھ سال کا یہ عرصہ اپنی تکلیفوں کے رفع کرنے پر محدود رہا۔خدا کا فضل ہے کہ آٹھ یا نو سال میں ہم ان تکالیف کو دور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔۔۔۔۔زمانہ کے ساتھ حالات و خیالات بدلتے رہتے ہیں۔آٹھ سال قبل جو ہم نے سیاسی قبا پہنی تھی۔وہ صرف پرانی ہی نہیں ہو گئی بلکہ پھٹ کر تار تار بھی ہو چکی ہے اب ہم ایسا جامہ نہیں گے جو ہمارے لئے باعث فخر ہو اور دنیا کے سامنے بھی باعث فخر ہو"۔| AL│ اخبار ”اصلاح" نے اس موقعہ پر ر ہنمایان قوم کی سب سے بڑی سیاسی غلطی " کے عنوان سے ایک زور دار اور موثر اداریہ لکھا جو مسلسل پانچ قسطوں میں شائع ہوا۔اس اداریہ میں بالتفصیل بتایا گیا کہ صلح کی خاطر آنحضرت ا یا صحابہ نے کبھی اپنی ملی تنظیم کا خاتمہ نہیں کیا اور نہ صلح کے لئے انفرادی تنظیم کو تباہ کرنا ضروری تھا۔مگر عارضی ہیجان اور وقتی جوش میں ان گزارشات کی قدر نہ کی گئی۔اور نیشنلٹ مسلمان لیڈروں نے اس کانفرنس کو ہندوؤں میں مقبول بنانے کے لئے آل انڈیا نیشنل کانگریس سے اپنا تعلق قائم کرنا ضروری سمجھا اور دیانتداری اور خلوص کے ساتھ حب الوطنی کے جذبہ سے سر شمار ہو کر ذمہ دار حکومت کے قیام کی جدوجہد کرنے لگے۔اس کے بر عکس ریاستی ہندؤوں نے نیشنل کانفرنس میں شامل ہونے کی بجائے اپنی تنظیم کو مضبوط کرنا اور پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔نیز حکومت کشمیر مسلمانوں کے انتشار و افتراق سے فائدہ اٹھا کر ان کے حقوق بالکل پامال کرنے پر کمر بستہ ہو گئی۔اب مخلص رہنماؤں کی آنکھیں کھلیں اور وہ بھی ملت و قوم کے وجود و بقاء کو خطرہ میں دیکھ کر نیشنل کانفرنس سے مستعفی ہونے لگے۔چنانچہ وہ لیڈر بھی جنہوں نے مسلم کانفرنس کے خاتمہ کی تائید میں یہ فرمایا تھا کہ ۱۹۳۱ء کی تحریک فرقہ وارانہ تھی اور اس کی قبااب تار تار ہو چکی ہے۔بالآخر ۱۹۴۰ء میں نیشنل کانفرنس سے علیحدہ ہو گئے اور بیان دیا کہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی بجائے نیشنل تحریک بہت بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے۔غیر مسلموں کی حمایت حاصل کئے بغیر نئی انجمن نے بتدریج عوام اور مسلمانوں کا اعتماد بھی کھو دیا ہے۔جس کا نتیجہ بربادی کی صورت میں ظاہر ہوا پولیٹیکل ترقی رک گئی ہے۔دفتری حکومت کی جڑیں زمین میں بہت زیادہ مستحکم ہو چکی ہیں جنہیں جنبش دینا مشکل ہو گیا ہے