تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 702 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 702

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 674 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد ہے دیہاتوں میں پہنچ نہیں سکتے۔جہاں کے لوگ سب سے زیادہ ہماری مدد کے محتاج ہیں اگر ہم نے بھی وقار کا خیال رکھا۔تو پھر ہمارے اور سرکاری افسروں۔۔۔کے درمیان کوئی فرق نہیں رہے گا۔۔۔میری ذاتی رائے یہ ہے یا تو انسان خدمت خلق کا کام اپنے ذمہ نہ لے اور اگر لے تو پھر اپنے آرام اور وقار کو اس میں حائل نہ ہونے دے مزید بر آن یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر اس قسم کے سامانوں کے ساتھ سفر کیا جائے تو غریب دیہاتی ڈرتے ہیں۔۔۔اور صحیح حالات بتلانے سے گریز کرتے ہیں گزشتہ دنوں میں اپنے دورہ کے دوران میں جب و نگام نزد بانڈی پورہ) پہنچا تو محترم خواجہ عبد الغنی صاحب ایک خواب بیان کر رہے تھے کہ مجھے اپنے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مصرع یاد آیا منه از بهر ما کری کہ ماموریم خدمت را) اپنے آقا کا فرمودہ یہ مصرعہ میں دل میں بار بار دہرا کر لذت لیتا رہا اس مصرعہ پر جس قدر زیادہ میں نے غور کیا اس نتیجہ پر پہنچا کہ جس نے خدمت کرنی ہوا سے آرام اور کرسی نشینی سے محبت نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے تمام لوازمات کو بالائے طاق رکھ کر خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر عوام کے کام کو سر انجام دینا چاہئے۔آپ بعض اوقات میں پنتیس میل تک سفر کر لیا کرتے تھے کشمیر میں اکثر سفر کرنے کی وجہ سے اپنے بعض احباب میں مرد آہن کے نام سے یاد کئے جاتے تھے ۱۹۴۴ میں جب ( قائد اعظم محمد علی جناح سرینگر تشریف لے گئے تو انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ مجھے ایسے آدمی سے ملنا ہے جو ریاست کے ہر حصہ سے واقف ہوا نہیں بتلایا گیا کہ ایک پنجابی نے تمام ریاست کا کئی بار سفر کیا ہے یہاں تک کہ گریز اور بلتستان وغیرہ علاقوں میں بھی پہنچا ہے قائد اعظم (مسٹر محمد علی جناح) نے چوہدری صاحب کو بلوایا اور مختلف مقامات کے حالات دریافت کرتے رہے اور ان طول طویل سفروں کی وجہ دریافت کی۔آپ نے فرمایا کہ میں جماعت احمدیہ قادیان سے تعلق رکھتا ہوں اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کی ہدایات کے مطابق کشمیریوں کی بہبود کے لئے میں نے یہ سفر کئے ہیں۔اس پر قائد اعظم بہت خوش ہوئے۔بالآخر اس سلسلہ میں کشمیر کے بعض مقتدر اصحاب اور عوامی حلقوں کی آراء تاثرات درج کئے جاتے ہیں۔محمد خلیل صاحب کچلو ممبر اسمبلی ضلع اور ھم پور نے بیان دیا کہ ” مجھے اس بات کا اظہار کرنے میں مسرت ہے کہ مولوی عبد الواحد صاحب مدیر اعلیٰ اصلاح " جس جواں ہمتی اور بلند حوصلگی سے جموں و کشمیر کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ان مظلوموں اور مفلوک الحال انسانوں کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں یہ ان کا ہی حصہ ہے۔آپ نے جن دشوار گزار راستوں اور