تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 698
تاریخ ا 670 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدید المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ اور مولانا جلال الدین صاحب شمس کے نام لکھے اس اہم خط و کتابت کی نقل ذیل میں درج کی جاتی ہے۔پہلا مکتوب سرینگر کشمیر - ۱۸ مئی ۱۹۳۴ء ڈیٹر بشیر احمد صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ امید ہے کہ میرا پہلا خط مل گیا ہو گا۔اس کے بعد میں وزیر اعظم ، مشیر مال اور انسپکٹر جنرل پولیس سے ملا۔مختصرا میں نے ان سے کہا کہ میں ذاتی طور پر موجودہ اسمبلی کی تین سال کے لئے آزمائش کرنی چاہتا ہوں اور خواہش میری یہی ہے کہ ملک کے بہترین نمائندے اسمبلی میں جائیں مگر حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ فضاء کو ساز گار بنائے تمام ایسے قوانین مثلاً ORDINANCES وغیرہ ضبطی جاگیرات رہائی قیدیان معافی تعزیری جرمانہ وغیرہ وغیرہ ان تمام سختیوں پر نظر ثانی کرے ورنہ میرے لئے تعاون کرنا مشکل ہو گا میں نے سول نافرمانی کو واپس لے لیا اور بغیر کسی شرط کے واپس لیا۔یہ باتیں میں بطور شرائط کے پیش نہیں کرتا بلکہ ان کے بغیر میرا تعاون کرنا غداری کے مترادف ہوگا۔دوم جن آدمیوں نے اسمبلی میں جاتا ہے یا جو کہ اس کے متعلق پرو پیگنڈا کر سکتے ہیں وہ سب قید خانہ میں ہیں۔میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں۔تمام حکام میرے نظریہ کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں لیکن عملا ابھی کچھ ظہور میں نہیں آیا شاید اس لئے کہ مہاراجہ صاحب جموں میں تھے وہ بھی کل آگئے ہیں ٹھا کر کرتار سنگھ اور وجاہت حسین بھی سرینگر میں نہیں تھے باہر گئے تھے اس لئے درنگی ہوئی ورنہ ادھر یا ادھر فیصلہ ہوا ہو تا۔امید ہے کہ چند دن کے اندر اندر فیصلہ کن بات طے ہوگی موجودہ وقت میں ہمارے پاس آدمی کوئی ایسا نہیں ہے جو کہ اسمبلی میں جاسکے۔اگر حکومت سے فیصلہ ہو گیا تو امید ہے کہ توسیع میعاد ہو سکتی ہے اور حکومت ایسا کرنے پر آمادہ ہے غرض یہ ہے کہ اگر میں نے ابھی سے تعاون کا اعلان کر دیا پھر قیدیوں کا باہر آنا مشکل ہو گا۔تعزیری جرمانہ کی واپسی کے لئے بھی میں کوشش کر رہا ہوں۔میر مقبول کے لئے بھی کوشش ہو رہی ہے حضرت صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری سے مبلغ در صد روپیه بذریعه تار منی آرڈر مل گئے ہیں شکریہ۔دوسرا مکتوب : بچھوارہ - سرینگر کشمیر سوموار ۱۵/ مئی ۶۳۴ جواب کا منتظر۔شیخ محمد عبد اللہ فکر می جناب میاں صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ