تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 689
تاریخ احمدیت۔جلده 661 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد بید ساڑھے چار سو روپے کمیٹی برائے امداد طلباء سرینگر کو بھجوائے جس پر صدرالدین صاحب سیکرٹری کمیٹی برائے امداد طلباء سرینگر نے شکریہ ادا کیا۔-۵- سید صادق علی شاہ صاحب بھدرواہ کی جنہوں نے جدید کشمیر کمیٹی کے ممبروں سے ہمنوائی کی تھی ایسوسی ایشن کی طرف سے قانونی امداد کی گئی چنانچہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ۲۳/ اگست ۱۹۳۴ء کو سید حبیب صاحب صدر ایسوسی ایشن کے نام ایک مکتوب بھی تحریر کیا۔جس میں لکھا کہ ہم مظلوم کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں - ۶ - سید صبح صادق شاہ صاحب علاقہ کھڑی کے بہت بڑے گدی نشین تھے آپ کو نظر بند کر دیا گیا تاریخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور ان کے مقدمہ کی پیروی اور آخری قانونی کوشش کرنے کے لئے مئی ۱۹۳۵ ء میں جموں تشریف لے گئے۔حضرت امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ۷- نور الدین صاحب ولد مفتی ضیاء الدین آف سرینگر کا بیان ہے کہ مس عشمی انچارج سوپور مشن نے مجھ پر دعویٰ کیا کہ میرے نابالغ بھائی شمس الدین اور میری ہمشیرہ عائشہ کی جواب بالغ ہو چکی ہے ) وہ میرے والد صاحب مرحوم کی کسی وصیت کی رو سے گارڈین ہے حالانکہ قبل از وفات میرے والد صاحب اس وصیت کو منسوخ کر چکے تھے میں چونکہ بے یارومددگار تھا رشتہ داروں نے امداد سے انکار کیا۔میں علماء گدی نشینوں اور لیڈروں کے پاس امداد کے لئے کیا لیکن کسی نے میری مدد نہ کی۔اور عیسائیوں نے بذریعہ عدالت میرے چھوٹے بھائی پر قبضہ حاصل کر لیا۔اس کے بعد عیسائیوں نے میری ہمشیرہ کے حصول کے لئے کوشش کی جب میں نے سب طرف سے اپنے آپ کو بے یار و مددگار پایا تو میں نے اس کس مپرسی کی حالت میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کے حضور امداد کے لئے درخواست کی گو میں سنی ہوں اور جماعت احمدیہ کے خیالات و عقائد سے متفق نہیں لیکن انہوں نے بروقت امداد فرمائی اور بذریعہ ایڈیٹر صاحب "اصلاح" مقدمہ کا خرچہ ارسال فرمایا چنانچہ سمیع پال صاحب کو وکیل مقرر کیا گیا اور انہوں نے بھی اسلامی ہمدردی کو مد نظر رکھ کر کم خرچہ پر میرے مقدمہ کی پیروی منظور کرلی چنانچہ خدائے تعالی کے فضل سے اس مقدمہ میں ہمیں کامیابی ہوئی عیسائیوں کی اپیل خارج ہو گئی۔اس جگہ میں اسلامی تعلیم کے مطابق اپنے محسن امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک بے بس اور مظلوم کی بروقت ا امداد فرمائی۔