تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 688 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 688

تاریخ احمدیت جلد ۵ 660 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ چوتھے جو لوگ کشمیر سے نکال دیئے گئے ہیں ان کی واپسی کے لئے بھی کوشش کی جائے زعمائے کشمیر نے اس کے ساتھ یہ رائے بھی پیش کی کہ اندرون کشمیر کام کو منظم کرنے کے لئے کشمیر کمیٹی کا کوئی صدر منتخب کیا جانا ضروری ہے چنانچہ ۲۸/ مارچ ۱۹۳۴ء کو کمیٹی نے با قاعدہ کام شروع کر دیا اور محض اس لئے کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کی کشمیر کمیٹی میں امتیاز ہو سکے اس کمیٹی کا نام آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن تجویز کیا گیا سید حبیب صاحب مدیر سیاست اس ادارہ کے صدر اور منشی محمد الدین صاحب فوق اس کے سیکرٹری مقرر کئے گئے۔اس ایسوسی ایشن کا پہلا اجلاس ۱۴ اپریل ۱۹۳۴ء کو اور آخری ۱۵ / دسمبر ۱۹۳۷ کو منعقد ہوا۔بالفاظ دیگر یہ ایسوسی ایشن قریباً پونے چار برس تک زعمائے کشمیر کی پشت پناہی کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد کرتی رہی اور حسب سابق اس تنظیم کی مالی ضروریات کا بار جماعت احمدیہ ہی نے اٹھایا اور ہر معاملہ میں اس کی پوری پوری سرپرستی کی۔ایسوسی ایشن نے اپنے دور میں مظلومین کشمیر کی مالی اور قانونی امداد سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جلا وطن کشمیریوں کی واپسی کے لئے گرانقدر مساعی کیں اس سلسلہ میں بعض واقعات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔-1 حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اپریل ۱۹۳۴ ء میں ایک وفد کے ساتھ مسلمانان کشمیر کے لئے آئینی جدوجہد کی غرض سے جموں تشریف لے گئے۔-۲- چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹرایٹ لاء میر غلام حسین صاحب کلو خانیاری اور جناب محمد عبداللہ صاحب سیاکھی کے مقدمات کی پیروی کے لئے ۲۳ / مئی ۱۹۳۴ء کو سرینگر تشریف لے گئے آپ کو مولوی محمد عبد اللہ صاحب کی نگرانی ہائی کورٹ میں داخل کرنا تھی۔وہ داخل کر دی گئی اور سشن حج صاحب کی عدالت میں دو مقدمات کی اپیلیں تھیں جو میرکلو صاحب کے متعلق دائر تھیں ان مقدمات میں جناب چوہدری صاحب نے کورٹ فیس اپنے پاس سے حکومت کشمیر کو ادا کی۔آپ نے میر غلام حسین صاحب کے مقدمہ میں عدالت میں ایسا قانونی نکتہ پیش کیا کہ وہ بری کر دیئے گئے۔چوہدری صاحب موصوف نے اس سفر میں مقدمات سے فارغ ہونے کے بعد ۲۶ / مئی ۱۹۳۴ء کو وزیر اعظم کشمیر کر تل کالی اور ہوم منسٹر و جاہت حسین صاحب سے ملاقات کی اور کشمیر کے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی جلا وطنوں کی واپسی اور ضبط شدہ جائداد کی بحالی اور طلبہ کے داخلہ کالج اور سکول کے متعلق گفتگو فرمائی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالے بنصرہ العزیز نے کشمیری طلباء کی اعانت کے لئے