تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 684
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 656 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه صاحب اور ان کے بعض کار پردازوں کے ساتھ خفیہ نہیں بلکہ علانیہ روابط رکھتے تھے اور ان روابط کا کوئی تعلق عقائد احمدیت سے نہ تھا بلکہ ان کی بناء محض یہ تھی کہ مرزا صاحب کثیر الوسائل ہونے کی نہ سے تحریک کشمیر کی امداد کئی پہلوؤں سے کر رہے تھے اور کارکنان کشمیر طبعاً ان کے ممنون تھے۔چودھری ظفر اللہ خاں بھی یقیناً مرزا صاحب ہی کے اشارے سے مقدمے کی پیروی کے لئے گئے ہوں گے۔14 دو اہم بیانات اس مقام پر جدید ید کشمیر کمیٹی کے آغاز و انجام سے متعلق دو ضروری بیانات کا درج کرنا ضروری ہے پہلا بیان جناب شیخ عبد الحمید صاحب ایڈووکیٹ سابق صدر آل کشمیر مسلم کانفرنس کا ہے اور دوسرا پر و فیسر علم الدین صاحب سالک کا۔یہ بیانات اصل واقعات تک پہنچنے میں کافی راہنمائی کرتے ہیں۔جناب شیخ عبد الحمید صاحب ایڈووکیٹ جموں کا بیان ہے کہ میرے نزدیک دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ اس امر کا اظہار بلا خوف تردید کیا جائے کہ میاں بشیر الدین محمود صاحب امام جماعت احمدیہ اور ان کی تشکیل کردہ کشمیر کمیٹی اور ان کی جماعت کے افراد نے جو گراں بہا خدمات تحریک آزادی کشمیر کے سلسلہ میں انجام دیں۔اس کا ہی یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانان ریاست اپنے حقوق حاصل کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے ملازمتوں میں ان کی کمی پوری ہونی شروع ہوئی اسمبلی یعنی مجلس قانون ساز کا قیام عمل میں آیا۔جس قدر مساجد و دیگر مقدس و متبرک مقامات سکھوں کے حمد سے ڈوگرہ حکومت کے زیر قبضہ و تصرف تھے سب واگزار ہو کر اہل اسلام کو مل گئے اور صوبہ کشمیرو میرپور جس کو ڈوگرہ حکمران اپنی ذاتی ملکیت اور زر خرید جانتے تھے اور زمینداروں سے حق مالکان وصول کرتے تھے بالآخر اس سے ان کو دست بردار ہونا پڑا۔نہ صرف لوگوں کو حق ملکیت ہی مل گیا بلکہ رقم مالکانہ جو مالیہ اراضی میں تھی۔وہ بھی منفی ہو گئی۔جس سے مسلمانوں کو لاکھوں روپے سالانہ کی ادائیگی معاف ہو گئی اور جائیداد زرعی دیبی کے رہن ربیع وغیرہ پر جو پابندی عائد تھی دور ہو گئی یہ لوگ اپنی مقبوضہ جائیداد کے مالک کامل بن گئے پریس اور پلیٹ فارم کو بھی آزادی نصیب ہوئی تعصب مذہبی نے جب میاں بشیر الدین صاحب کو کشمیر کمیٹی کی صدارت سے علیحدگی پر مجبور کر دیا۔تو ان کی جگہ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم و مغفور صدر چنے گئے علامہ مسلمانوں کے لحاظ سے بڑے محترم تھے مگر ان کے پاس ایسی کوئی منظم جماعت نہ تھی کہ جیسی جماعت احمد یہ میاں بشیر الدین صاحب کے تابع فرمان تھی اور نہ ہی علامہ کے پاس ایسا کوئی سرمایہ تھا کہ جس سے وہ ریاست کے اندر جماعت احمدیہ کی طرح اپنے خرچ پر دفاتر کھول دیتے۔اس لئے ان کی صدارت کے ایام میں کوئی نمایاں کام نہ ہو سکا۔کہاں میاں بشیر الدین محمود