تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 683 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 683

یت - جلده 655 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ خداوند کریم اسے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق اور ہدایت دے۔حسام الدین جو کشمیر سے آیا تھا اس نے لاہور میں روپیہ خرچ کیا اسے ایک دوست نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کا اس وقت تک خاتمہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ حضور کمیٹی میں ہیں آپ کی ذات مہاراجہ کی آنکھوں میں مثل خار کھنکتی تھی۔اور واقعی جو کام گورنمنٹ آف انڈیا اور ریاست کشمیر نہ کر سکتے تھے وہ حضور کی بلند حوصلگی اور اقبال کی دوں ہستی سے ہو گیا میں نے تو پیراکبر علی صاحب سے صاف کہہ دیا تھا کہ نکوئی پابدان کردن چنان است که بد کردن بجائے نیک مردان میاں سر فضل حسین نے بھی میری زبانی سرا قبال کو کہلا بھیجا کہ مسلمانوں کے نقصان کے علاوہ اسے ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہ ہو گا مگر وہ شیر قالین ہے عملی بات تو سمجھنے سے قاصر ہے میری رائے ناقص میں تو حضور والا کو یہ کام پھر ہاتھ میں لینا چاہئے۔ہم سب حضور کے جانثار خادم ہیں۔اقبال سے نہ پہلے کچھ ہو سکا اور نہ اب ہو سکے گا اس کے متعلق جو احکام ہوں بسر و چشم تعمیل ہو گی۔برادرم محمد عبد اللہ کی بابت بھائی سکندرحیات نے گو کل چند سے وعدہ لے لیا ہے میں پھر ان کو اور ڈاکٹر صاحب کو لکھ رہا ہوں میرے لئے دعائے خیر فرما ئیں۔اگر کسی خدمت کے قابل ہوں تو خادم ہوں۔حضور کا جان شار غلام - احمد یار دوستانه " جدید کشمیر کمیٹی کا انجام جدید کشمیر کمیٹی بڑے جوش و خروش سے ۲/ جولائی ۱۹۳۳ء کو معرض وجود میں آئی تھی۔بالآخر مختصری مدت کے بعد ختم ہو گئی۔اس کے زمانہ قیام میں اس نے اگر کوئی قابل ذکر کام کیا تو یہ کہ اس نے بعض وکلاء کو جن میں بہار کے ایک وکیل مسٹر نعیم الحق بھی تھے) کو دو ایک مقدمات کی پیروی کے لئے ریاست کشمیر میں بھجوایا جو چند روز بحث کرنے کے بعد چلے آئے ڈاکٹر صاحب ایک اور مقدمہ میں بھی سید نعیم الحق صاحب کو بھجوانا چاہتے تھے کہ شیخ عبد الحمید صاحب (صدر آل کشمیر مسلم کانفرنس کی طرف سے انہیں اطلاع پہنچی کہ اس کی پیروی چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کریں گے اس پر ڈاکٹر صاحب نے ۹/ فروری ۱۹۳۴ء کو سید نعیم الحق صاحب کو اس سے مطلع کرتے ہوئے لکھا۔” چوہدری ظفر اللہ خان کیونکر اور کس کی دعوت پر وہاں جارہے ہیں مجھے معلوم نہیں شاید کشمیر کانفرنس کے بعض لوگ ابھی تک قادیانیوں سے خفیہ تعلقات رکھتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے مشہور سوانح نویس جناب عبد المجید صاحب سالک ذکر اقبال میں خط کا یہ حصہ درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں حالانکہ شیخ محمد عبد اللہ (شیر کشمیر) اور دوسرے کارکنان کشمیر مرزا محمود احمد