تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 682
تاریخ احمد بیت - جلد ۵۔654 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه نہیں ہے لیکن یہ خوا نخواہ ملک برکت علی کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ ملک صاحب کی قسم کے لوگوں کو عملاً بتا دیں گے کہ ان کی قوم کے حلقوں میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے کانگریسی حلقہ انہیں کمزور سمجھتا ہے یہ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے لہذا سراقبال کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ ملک صاحب کی حمایت سے ہاتھ اٹھا ئیں۔- علامہ اقبال کی یہ تجویز فتنہ کی بنیاد ہے کہ مسلمان جلسہ کر کے کشمیر کمیٹی بنائیں۔علامہ اقبال کے بغیر کشمیر کمیٹی نے کام کیا وہ اب بھی موجود ہے اور آئندہ بھی کام کرے گی۔10 حق یہ ہے کہ کشمیر کمیٹی کا کام علامہ اقبال اور برکت علی صاحب کے بس کا نہیں تھا۔لہذاوہ بہانہ بنا کر بھاگ گئے ورنہ جس وقت وہ مستعفی ہوئے اس وقت نہ کوئی جھگڑا ہوا نہ تو تو میں میں ہوئی اور نہ کوئی اختلاف رائے ہی بہت زیادہ موجود تھا"۔10 ڈاکٹر محمد اقبال قدیم کشمیر کمیٹی کے خاتمہ کا اعلان اور جدید کشمیر کمیٹی کی تشکیل صاحب نے اپنے بیان میں کشمیر کمیٹی کے وجود و بقا کے لئے ایک پبلک جلسہ کی تجویز پیش کی تھی۔جو ان کے رفقاء کی طرف سے ۲ جولائی ۱۹۳۳ء کو لاہور میں منعقد کیا گیا اور اس میں قدیم کشمیر کمیٹی کے خاتمہ اور ایک جدید کمیٹی بنانے کا اعلان کیا گیا حالانکہ مدیر انقلاب کے الفاظ میں لاہور شہر کا کوئی نہایت ہی معمولی پبلک جلسہ نہ اس بات کا حقدار تھا کہ نئی کمیٹی بنا کر اسے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قرار دیتا اور نہ اس امر کا مجاز تھا کہ پہلی کشمیر کمیٹی کو تو ڑ دیتا زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا تھا کہ کسی بنے والی کمیٹی پر اظہار اعتماد کر دیا جاتا اور پرانی کمیٹی پر بے اعتمادی کی قرار داد منظور کر دی جاتی اس حالت میں یہ سمجھاجاتا کہ لاہور شہر کے ان چند سو مسلمانوں کو جو ایک خاص تاریخ کو دہلی دروازے کے باہر جمع ہوئے تھے پرانی کمیٹی کے کام پر اعتماد نہیں اور بس لیکن وہ مسلمان اگر چند سو نہیں بلکہ چند ہزار بھی ہوتے تو سارے ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندگی دنیابت کا منصب سنبھال لینے کے حقدار نہ تھے۔پنجاب کے مشہور مسلمان سیاسی لیڈر جناب احمد یار صاحب دولتانہ نے اس مرحلہ پر ۱۲ / جولائی ۱۹۳۳ء کو مندرجہ ذیل مکتوب لکھا:- دلنواز - ڈلہوزی ۱۲/۷/۳۳ قبلہ و کعبه مخدومی معظمی محترم مدظلہ - وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ و ادائے آداب کے بعد گزارش ہے نوازش نامه نیض شمامہ شرف صدور لا کر باعث سربلندی بندہ ہو اخداوند کریم کے فضل اور حضور کی دعا سے عزیز ممتاز محمد خاں بی۔اے کے امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوا۔اور تاریخ میں آنرز میں پنجاب بھر میں دوم رہا۔وہ انشاء اللہ ۷ / ستمبر کو آکسفورڈ جائے گا۔دعا فرمائیں کہ