تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 681 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 681

تاریخ احمدیت۔جلده 653 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کے حق میں تھے اور پانچ مخالف لہذا میری ترمیم منظور ہو گئی۔۵- علامہ اقبال اور مرزا محمود احمد صاحب امیر جماعت قادیان دونوں میرے خلاف تھے لہذا دونوں متحد ہو گئے مرزا صاحب نے میری ترمیم کے مقابلہ میں ترمیم پیش کی ہوئی تھی۔جو میری ترمیم کے منظور ہو جانے کے بعد کسی قاعدہ کے رو سے پیش نہیں ہو سکتی تھی۔مگر علامہ اقبال نے اصول مجالس کو مرزا صاحب کی خاطر بالائے طاق رکھ دیا۔اور ان کی ترمیم مجلس کے رو برو پیش کر دی اور علامہ اقبال اور مرزا صاحب کے مریدوں کے ووٹوں سے وہ منظور ہو گئی۔گویا مرزا صاحب کی بے جا حمایت اگر کسی نے کی تو علامہ اقبال تھے۔۔اس کے بعد عہدیداروں کی تعداد زیر بحث آئی۔صدر ایک بالاتفاق تجویز ہوا وائس پریذیڈنٹ دس تجویز کئے گئے تھے کثرت رائے یہ تھی کہ وائس پریذیڈنٹ بھی ایک ہی ہو۔مگر علامہ اقبال مصر تھے کہ ایک سینئر وائس پریذیڈنٹ اور باقی صرف وائس پریذیڈنٹ کہلا ئیں۔یہ بات منظور ہوئی اور قرار پایا کہ ایک سینئر پریذیڈنٹ ہوا کرے اور تین وائس پریذیڈنٹ۔یہاں تک صلح و آشتی اور امن سے کار روائی ہوئی۔ے۔اس کے بعد تجویز کیا گیا تھا کہ ایک سیکرٹری ہوا کرے۔اور ایک اسٹنٹ سیکرٹری۔کثرت رائے یہ تھی کہ سیکرٹری روہوں مگر دونوں سیکرٹری کہلائیں کسی کو اسٹنٹ کہہ کر ذلیل نہ کیا جائے۔اور نہ دوسروں کے ماتحت کیا جائے علامہ اقبال نے زور دیا کہ سیکرٹری اور اسٹنٹ سیکرٹری کی تجویز منظور کی جائے مرزا صاحب نے بھی اس موقع پر علامہ اقبال کی خاطر تجویز کیا کہ دو جائنٹ سیکرٹری رکھے جائیں۔دوسری طرف سے عرض کیا گیا کہ دلائل سن لئے جائیں مناسب یہ تھا کہ علامہ اقبال دلائل سن کر مسئلہ کو روٹ پر چھوڑ دیتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔اور کسی سے بات کئے بغیر اچانک یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا۔کہ بعض ارکان کی روش ایسی ہے کہ میں آئندہ آپ کا صدر نہیں بن سکتا (حالانکہ یہ زیر بحث نہیں تھا کہ علامہ صاحب آئندہ صدر ہوں) اور میں عارضی صدارت بھی ترک کرتا ہوں"۔آپ یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے سیکرٹری نے کہا آپ مستعفی ہوتے ہیں تو میں بھی استعفیٰ دیتا ہوں اور وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے لیکن آخر وکیل تھے۔فورا پلٹا کھایا اور کہنے لگے کہ صاحب صدر جلسہ منتشر کرتے ہیں اور حالا نکہ صدر نے ایسا نہیں کیا تھا۔اور وہ مستعفی ہونے کے بعد شاید کر بھی نہیں سکتے تھے پیراکبر علی صاحب نے اسی وقت کہدیا کہ صدر صاحب نے مستعفی ہونے سے پہلے جلسہ منتشر نہیں کیا اور اب وہ ایسا کر نہیں سکتے تھے۔اس کے بعد افرا تفری کی پیدا ہو گئی اور سب چل دیئے۔میری دانست میں علامہ اقبال کو غلط فہمی ہوئی کوئی شخص ان کی رائے یا صدارت کے خلاف