تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 678 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 678

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 650 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ تک کے جرائد و عمائد بلکہ ارباب حکومت تک متاثر ہوئے اس نے سب سے اہم خدمات خود کشمیر میں سرانجام دیں شہداء اور مجرد حین کی مالی امداد کی کارکنوں کی تنظیم کی۔ماخوذین کے لئے قابل اور ایثار پیشہ ہیر سٹر بھیجے کشمیر کمیٹی کے صدر محترم صاحب کا استعفیٰ اہالیان کشمیر کے لئے انتہائی بد قسمتی ہے۔ہم جناب مرزا صاحب سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے استعفیٰ پر نظر ثانی فرما دیں"۔مسلمانان گلگت مسلمانان گلگت نے حضور کی خدمت میں لکھا۔بحضور عالی جناب حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔گذارش ہے کہ جملہ مسلمانان گلگت تحریک کشمیر میں حضور والا کو اپنا نمائندہ تسلیم کرتے ہوئے نہایت ہی عاجزی اور انکساری سے التجا کرتے ہیں کہ اللہ حقوق طلبی میں مسلمانان کشمیر کو ہر ممکن امداد دیکر ممنون احسان بنایا جائے۔(۲) اس وقت تک تحریک کشمیر میں جو امداد حضور والا دیتے رہے ہیں۔اس کے لئے مسلمانان گلگت (کشمیر) کابچہ بچہ حضور کا شکر گزار ہے خداوند تعالٰی حضور کو اس احسان کے عوض جزائے خیر عطا فرمائے۔(جملہ مسلمانان گلگت بذریعہ محمد اکبر خان) مسلم پریس کا تبصرہ حضرت خلیفتہ البیع الثانی کے صدارت کمیٹی سے استعفی پر اہل کشمیر پر کیا بیتی اس کا ذکر اوپر آچکا ہے اب یہ بتایا جاتا ہے کہ پنجاب کے مسلم پریس نے اس موقعہ پر کن خیالات کا اظہار کیا۔جناب سید حبیب صاحب نے اپنے اخبار ” سیاست ۱۸/ مئی ۳۳ء میں لکھا۔لاہور کے بعض ارکان کشمیر کمیٹی میں یہ تحریک جاری تھی کہ کمیٹی مذکور کے عہدہ داروں کا جدید انتخاب ہو مجھ سے بھی اس تحریک کی تائید کے لئے کہا گیا اور میں نے بھی متعلقہ کاغذ پر دستخط کئے لیکن افسوس ہے کہ معلومہ حارج کی وجہ سے میں جلسہ میں موجود نہ تھا معلوم ہوا ہے کہ اس جلسہ میں مرزا صاحب کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مولانا چوہدری غلام رسول صاحب مرنے بھی سیکرٹری کے عہدہ سے استعفیٰ داخل کر دیا۔اور ان کی جگہ ملک برکت علی صاحب کا تقرر عمل میں آیا۔میں خوش ہوں کہ ایسا ہوا۔اس لئے میری دانست میں اپنی اعلیٰ قابلیت کے باوجود ڈاکٹر اقبال اور ملک برکت علی صاحب دونوں اس کام کو چلا نہیں سکیں گے۔اور یوں دنیا پر واضح ہو جائے گا۔کہ جس زمانہ میں کشمیر کی حالت نازک تھی اس زمانہ میں جن لوگوں نے اختلاف عقائد کے باوجود مرزا صاحب کو صدر منتخب کیا تھا۔انہوں نے کام کی کامیابی کو زیر نگاہ رکھ کر بہترین انتخاب کیا تھا۔اس وقت اگر اختلافات عقائد کی وجہ سے مرزا صاحب کو منتخب نہ کیا جاتا تو تحریک بالکل ناکام رہتی۔اور امت مرحومہ کو سخت نقصان پہنچتا۔میری رائے میں مرزا صاحب کی علیحدگی کمیٹی کی موت کا مترادف ہے مختصر یہ کہ