تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 676
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 648 حریک آزادی تعمیر اور جماعت احمدیہ امام جماعت احمدیہ کی اس کوشش اور تردد کے لئے جو انہوں نے سیاسی پہلو سے اہل کشمیر کے لئے فرمائی تہ دل سے مشکور ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ خواہ وہ صدارت کشمیر کمیٹی سے مستعفی ہو چکے ہیں پھر بھی بدستور اس کار خیر کو ذاتی کوشش سے سرانجام دے کر ثواب دارین حاصل کریں- اس درخواست پر جموں کے اکتیس معزز مسلمانوں کے دستخط تھے۔علاقہ سماہنی (ریاست جموں) کے مقدر مسلمانوں مسلمانان علاقہ سماہنی ( ریاست جموں ( نے لکھا۔گو جناب مصلحت وقتی کی بناء پر صدارت آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے مستعفی ہو گئے ہیں لیکن آپ کی سابقہ عنایات کا نقش ہمارے دلوں سے کبھی مٹ نہیں سکتا۔بلکہ آئے دن تازہ ہو تا نظر آ رہا ہے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے وکلاء نے بدوران شورش ہمارے مقدمات میں جس محنت اور تندہی سے کام کیا ہے اس کا ہمارے دلوں پر گہرا اثر ہے جو کبھی مٹنے والا نہیں۔یہ تبلیغ احمدیت کا جو الزام وکلاء پر لگایا جاتا ہے۔اسے ہم نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے معترضوں کی لغو بیانی کو بہت بری طرح محسوس کرتے ہیں۔کیونکہ اس وقت جبکہ ہم سخت مصیبتوں کا شکار ہو رہے تھے۔آپ ہی کا کام تھا کہ بغیر کسی ذاتی مفاد کے ہمارے مقدمات کی پیروی کے لئے اپنے وکلاء کو بھیج کر ہماری مدد کی۔اور محنتانہ کے عوض خالی شکریہ پر ہی اکتفا کرتے رہے۔اور ہمیں تمام تکالیف سے نجات دلانے کے لئے خود مصائب برداشت کرتے رہے۔صاحب دین صاحب نے مسلمانان میرپور کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے مسلمانان میرپور لکھا۔مجھے یہ کامل یقین تھا کہ آنحضرت کی ذات اقدس اگر بد ستور پریذیڈنٹ شپ کے عہدے پر فائز رہی تو ہم مظلومان میرپور کی فلاح و بہبود کا موجب ہوگی مگر چند ایک نا عاقبت اندیشوں نے ایسا نہ ہونے دیا۔جس کا نتیجہ لازمی طور پر بر عکس نکلا علی بیگ اور سکھ چین پور کے مقدمات میں اسیران کو جو طویل دستگین سزائیں دی گئی ہیں غالبا یہ اس امر کا روشن ثبوت ہے۔سزاؤں کے متعلق جناب کے پاس اخبار پہنچ ہی چکے ہوں گے جناب کی خدمت اقدس میں اب میری یہی التجا ہے) جس طرح پیشتر آنحضور نے فی سبیل اللہ خود غرضوں کی طعن و تشنیع کو نظر انداز کرتے ہوئے مظلوموں کی حمایت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا اسی طرح اسب بھی ان معصوم بچوں کی زاری پر جن کے باپ شاید ان سے ہمیشہ کے لئے چھن گئے ترس فرماتے ہوئے ان کی مدد کے لئے میدان عمل میں گامزن ہوا کر مسلمانان میرپور کی املاک قلوب پر قابض ہو جا ئیں مجھے دنیا میں آنحضرت اور جماعت احمدیہ کے بجز کوئی اور شخصیت یا سوسائٹی نظر نہیں آتی جو بے سپر مسلم قوم کی معاون