تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 674 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 674

تاریخ احمدیت۔جلده 646 ۷ / جون ۱۹۳۳ء کو سپرد ڈاک کی گئی تھی اور اس کے لفافہ پر یہ پتہ درج تھا:- تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ بخدمت اقدس حضرت مرزا بشیر الدین صاحب محمود امیر جماعت احمدیہ قادیان ضلع گورداسپور درخواست کے الفاظ یہ تھے :- بسم الله الرحمن الرحيم از دفتر جموں و کشمیر مسلم کانفرنس بخدمت حضرت صاحب قبلہ ! السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ مزاج شریف بنده معہ عبدالمجید قرشی ایڈیٹر ” پاسبان" آج غالبا ایک نوٹس کے بعد جو نوٹیفیکیشن ایل 19 کے ماتحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے ہمیں موصول ہوا ہے خلاف ورزی کر کے جیل میں جا رہے ہیں آنجناب نے جو کچھ اس وقت تک مظلومان کشمیر کے لئے کیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور کسی تشریح کا محتاج نہیں بندہ کو امید واثق ہے کہ آنجناب اپنے گذشتہ ایثار کے پیش نظر پھر مظلوم مسلمانان کشمیر کی حمایت کے لئے کمر بستہ ہو جائیں گے کیونکہ حالات سخت نازک صورت اختیار کر رہے ہیں اور آنجناب کی مساعی جمیلہ کی ازحد ضرورت ہے " بر کریماں کا رہ دشوار نیست " احقر غلام عباس- شیخ محمد عبد اللہ کی گرفتاری کے بعد نوجوان پارٹی میدان عمل میں آئی تو مسلمانان کشمیر کے ۹ ڈکٹیٹروں میں سے ۳ احمدی ڈکٹیٹر تحریک آزادی کا جھنڈا تھامے ہوئے آگے آئے اور گرفتار کر لئے گئے۔انہیں دنوں سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت پر وزیر اعظم کشمیر (مسٹر کالون) سے ملاقات کرنے کے لئے سرینگر پہنچے۔مگر گور نر کشمیر نے سرینگر میں ٹھہرنے کی اجازت نہ دی آپ کو واپس آجانا پڑا۔A حکومت کشمیر مسلمانوں کی آئینی امداد کا سلسلہ بھی بند کر دیتا چاہتی تھی اس لئے اس نے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو بھی ریاست سے چلے جانے کا نوٹس جاری کر دیا نیز میر واعظ مولانا احمد اللہ صاحب ہمدانی جلا وطن کر دیئے گئے۔یہ تو حکومت کشمیر کا رد عمل تھا جہاں تک مسلمانان کشمیر کا تعلق ہے ان کو صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے استعفیٰ سے از حد صدمہ ہوا۔اور ان میں انتہائی بے چینی اور اضطراب کے آثار پیدا ہو گئے۔اور ہر حصہ کشمیر کے معززین نے محضر نامے بھیجکہ درخواست کی کہ آپ مسلمانان کشمیر کی پہلے کی طرح امداد فرماتے رہیں۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی طرف سے انہیں یقین دلایا گیا کہ حضرت امام جماعت احمد یہ اور دوسرے افراد جماعت اہل کشمیر کی ترقی و بہبود میں اپنے وعدہ کے مطابق ہمیشہ سرگرم عمل رہیں گے۔جدید کشمیر کمیٹی کے ممبروں نے پنجاب میں یہ غلط فہمی پھیلا رکھی تھی کہ یہ احمدی وکلاء اور احمدی کار کن اس تحریک کو اپنی تبلیغ کے لئے آلہ کار بنا رہے تھے کشمیر کے مخلص مسلمانوں نے اس الزام کی پر