تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 666 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 666

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 638 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۴۳- انقلاب ۱۳ ستمبر ۰۶۱۹۳۲ -۴۵ ارکان وفد مولوی عبد الرحیم صاحب درد سید محسن شاہ صاحب مولوی محمد یعقوب خان صاحب مسٹر مجید ملک صاحب مولوی سید میرک شاہ صاحب تھے اور نامہ نگار جناب چوہدری ظہور احمد صاحب ٢٦ الفضل ۲۶ / ابر مل ۱۹۳۲ء صفحه ۱ ۴۷ الفضل قادیان مورخہ یکم مئی ۱۹۳۲ء صفحہ ۴۲ کالم -۴۸- الفضل ۱۲ مئی ۱۹۳۳ء صفحه ۱- الفضل ۹/ جون ۱۹۳۲ء صفحہ ا کالم ۳۔۵۰ - الفضل ۲۴/ دسمبر ۱۹۳۱ء (اس تار کا متن گزشتہ فصل میں درج ہو چکا ہے) ۵۱ انقلاب (لاہور) / اکتوبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۶ ۵۲۔لاہور / جون ۱۹۶۵ء (بعنوان کشمیر کی کہانی) صفحہ ۱۳ کالم۔۵۳- الفضل ۲۴/ اپریل ۶۱۹۳۳ -۵۴ اس سفر میں بڑی مشکلات پیش آئیں چنانچہ شیخ محمد احمد صاحب منظر کا بیان ہے۔" ہم دونوں قادیان سے رخصت ہوئے اور ہم نے یہ تجویز کی کہ چونکہ ابھی تک کشمیر داخل ہونے میں روک ٹوک جاری ہے اس لئے یوسف خان صاحب لاہور ٹھہر جائیں اور خاکسار اکیلا پہلے سرینگر پہنچنے کی کوشش کرے گا۔چنانچہ میں راولپنڈی پہنچا۔اور ڈاک کی لاری میں سوار ہو گیا۔کوہالہ پہنچنے پر ایک سخت مشکل پیش آئی۔کوہالہ کے پل پر ایک مسلمان سب انسپکٹر پولیس تعینات تھا۔اس نے مجھ سے پوچھا آپ کہاں جاتے ہیں؟ اور کون ہیں؟ میں نے کہا میں وکیل ہوں اور مسلمانوں کے مقدمات کی پیروی کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔سب انسپکٹر ند کورنے کہا آپ نہیں جاسکتے جانے کی اجازت نہیں۔میں نے کہا کہ ہائیکورٹ کا قانون ترمیم ہو چکا ہے اور بیرونی وکلاء کو پیروی مقدمات کی اجازت مل چکی ہے۔میرے پاس موکلوں کی تاریں موجود ہیں۔چنانچہ ایک شخص فتح محمد کے مقدمہ کی پیروی کل ہی میں نے شروع کر دیتی ہے۔کیونکہ کل تاریخ مقدمہ ہے لیکن سب انسپکٹرن کو ربدستور مصر رہا کہ آپ نہیں جاسکتے میں نے کہا کہ پھر لکھ دو اور یہ آپ کی ذمہ داری ہوگی کہ کل کے مقدمات بلا پیروی رہ جائیں گے۔اس پر سب انسپکٹر مذکور نے یہ تجویز پیش کی کہ وہ مجھے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مظفر آباد کے روبرو پیش کرے گا۔چنانچہ ہم دونوں اس لاری میں سوار ہو کر مظفر آباد ایک بجے دن کے قریب پہنچ گئے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب دورے پر گئے ہوئے ہیں اس پر سب انسپکڑ نے کہا آپ یہاں ٹھہر جائیں کیونکہ کل تک وہ آجائیں گے۔میں نے اس سے انکار کیا۔کہ میں بہر حال کل مقدمات کی پیروی سے رک نہیں سکتا۔یا آپ مجھے لکھ کر دیں۔حیص بیص میں دو بج گئے لاری اور اس کے مسافرر کے رہے۔یہ ڈومیل کا واقعہ ہے میں لاری میں سوار ہونا چاہوں تو سب انسپکٹر ڈرائیور کو لاری چلانے سے روک دے اس کے بعد میرے ذہن میں ایک تجویز آئی اور میں نے کہا کہ سب انسپکٹر صاحب علیحدہ ہو کر میری بات سنتیں میں انہیں علیحدہ ایک طرف لے گیا۔اور میں نے حسب ذیل کلمات ان سے کے چونکہ آپ مسلمان پولیس افسر ہیں اس لئے اپنی بے جانیک نامی اور ترقی کے لئے مسلمانوں کے جائز کام میں بھی رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ آپ کے افسر آپ سے خوش ہوں اور آپ کو ترقی ملے۔اگر کوئی ہند و سب انسپکٹر ہو تا تو میرے کاغذات دیکھ کر ایک منٹ کے لئے مجھے نہ روکتا لیکن آپ اپنی قوم کے دشمن ہیں۔اور مسلمانوں کی جائز مدد بھی آپ کو منظور نہیں۔جب میں نے یہ باتیں کیں تو میں سچ کہتا ہوں کہ سب انسپکٹر پولیس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔اور وہ کہنے لگا کہ کیا مجھے آپ مسلمانوں کا ایسا دشمن سمجھتے ہیں؟ لوہا گرم ہو چکا تھا۔میں نے شدت سے اپنی بات کو دہرایا اور کہا کہ آپ کے رویہ سے زیادہ مسلمانوں کی دشمنی کا آپ کے متعلق کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔یقیناً آپ مسلمانوں کے بد خواہ ہیں۔اس پر سب انسپکٹرند کور نے مجھے بتایا۔یہ خیال غلط ہے میں سرینگر میں تعینات تھا۔بلا وجہ مجھ پر شبہ کیا گیا کہ میں ایجی ٹیشن میں حصہ لے رہا ہوں۔اور سزا کے طور پر مجھے سرینگر سے کو ہالہ جیسی گرم جگہ تبدیل کر دیا گیا۔مجھے خیال گزرا کہ مجھ پر یہ الزام نہ لگ جائے کہ میں نے باہر سے وکیل بلوالیا ہے اس لئے میں نے یہ احتیاط کرنی چاہی کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی اجازت سے آپ سرینگر چلے