تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 662
تاریخ احمدیت جلد ۵ 634 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کے لئے پوری قوت سے سامنے آگئے اور انہوں نے فرقہ وارانہ سوال کھڑا کر دیا۔اور تحریک کو نقصان پہنچانے کے لئے خود شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو احمدی مشہور کرنے لگے۔غرضکہ مسلم کانفرنس کی کشتی اپنے آغاز ہی میں طوفان حوادث میں گھر گئی۔یہ نازک صورت حال دیکھ کر ۲۷/ دسمبر ۱۹۳۲ء کو سرینگر میں مسلمانان کشمیر کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں شیر کشمیر شیخ عبداللہ صاحب نے اپنی تقریر میں اور دوسرے زعماء کشمیر نے اپنے پیغامات میں مسلمانوں کو متحد العمل ہونے کی پر زور اپیل کی۔چنانچہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے فرمایا۔مسلمانو! آپ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ آپ اپنے نفع و نقصان کا امتیاز کرتے ہوئے مفاد اسلامی کے تحفظ کے مسئلہ پر خود غور کریں اور دیکھیں کہ آیا موجودہ وقت میں سنی شیعہ اہل حدیث اور احمدی وغیرہ کا سوال اٹھانے میں وہ کہاں تک حق بجانب ہیں۔(یہ سن کر لوگوں نے بآواز بلند کہا کہ گزشتہ پر آشوب دنوں میں جب مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہا تھا اس وقت حکومت کشمیر یا ڈوگرہ درندے یہ امتیاز کرتے تھے کہ فلاں شیعہ ہے یا سنی یا احمدی ہے یا اہل حدیث ؟ بلکہ ان کے نیزوں اور گولی کا نشانہ بننے کے لئے صرف مسلمان ہونا کافی تھا) شیخ صاحب نے اپنی تقریر کے بعد کانفرنس کے دیگر معزز نمائندگان کے پیغامات پڑھ کر سنائے چنانچہ سید حسین شاہ جلالی (اہل تشیع کے نمائندہ) نے اپنے پیغام میں کہا۔” جب انتخاب نمائندگان ہوا تھا۔تو ہم تمام نمائندگان نے اسے اپنا اصول بنارکھا تھا۔بلکہ ایک قسم کا حلف لیا تھا۔کہ فرقہ وارانہ سوال کو کبھی عامتہ المسلمین میں نہیں اٹھانا چاہئے۔اور تمام فرقوں کو خواہ وہ سنی ہوں یا شیعہ اہل حدیث ہوں یا احمدی مقلد ہوں یا غیر مقلد متحد اور متفق ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ اس تحریک میں اشتراک عمل کرنا چاہئے"۔خواجہ غلام احمد صاحب اشائی نے پیغام دیا۔”میں خود مرزائی نہیں ہوں اور نہ اہلحدیث مگر اس جدوجہد میں ہم فرقہ واری سے بالا تر ہو کر تمام اہل اسلام خواہ وہ کسی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں متفق ہو کر کامیابی کی امید رکھتے تھے اس وقت کوئی تفرقہ کا فرقہ وارانہ سوال پیدا کر نا سخت مملک ہے “۔چوہدری غلام عباس صاحب نے پیغام دیا۔آپ صاحبان کو یہ جان لینا چاہئے۔کہ اس وقت قوم کی زندگی اور موت کا سوال در پیش ہے۔اور اگر ان حالات میں نمائندگان کی طرف سے ذرا ایسی لغزش بھی واقع ہوئی تو میں برملا یہ کہنے کی جرات کرتا ہوں کہ قوم کے خون ناحق کے ذمہ دار وہ ہوں گے۔اس لئے میں نہایت ادب کے ساتھ