تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 660
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 632 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ تساہل سے کام لیا۔میں مانتا ہوں کہ یقینا یہ صریح گستاخی ہے مگر خدا کو حاضر جان کر میں جناب سے عرض کئے دیتا ہوں کہ میری گوناگوں پریشانیوں نے مجھے مجبور کر رکھا تھا۔ایک طرف۔۔۔اس کی پارٹی۔ایک طرف پنڈتوں اور مسلمانوں کا افسوسناک فساد مالی پریشانی اپنوں سے بیگانگی ، کانفرنس کی تیاری وغیرہ وغیرہ۔ان سب باتوں نے مجھے پریشان کر رکھا تھا۔اس کی شہادت جناب کے پاس سید زین العابدین صاحب دے سکتے ہیں۔ان حالات کے ہوتے ہوئے مجھے کامل یقین ہے۔کہ جناب مجھے معاف فرما ئیں گے۔اور بزرگانہ کریمانہ صفات کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے یقین کر لینا چاہئے کہ جناب کا تسلی بخش جواب با صواب میری پریشانیوں کو جلد از جلد رفع کر دے گا۔حالات بالکل ٹھیک ہیں۔جناب در و صاحب اور شاہ صاحب وغیرہ کام میں مصروف ہیں۔جو لوگ قومی کام میں مخل ہونا چاہتے ہیں۔اللہ میاں نے انہیں کافی سزا دی ہے۔الحمد للہ۔درد صاحب سے موٹر کا روپیہ بھی وصول ہو چکا ہے۔بہت بہت شکریہ۔کانفرنس بخیر و خوبی ختم ہوئی۔بجائے تین دن کے کانفرنس برابر پانچ دن ہوتی رہی اور بڑی شان سے دستور اساسی نے بڑا وقت لیا۔اخراجات تقریباً آٹھ ہزار آئے ہیں۔پنڈال میں ڈیڑھ ہزار روپیہ خرچہ آیا۔لاؤڈ اسپیکر بجلی وغیرہ کا اچھا انتظام تھا۔مختلف اطراف سے رضا کار آئے ہوئے تھے۔فرودگاہ کا انتظام بہت اچھا تھا۔الغرض جناب کی دعا سے کانفرنس نہایت کامیاب رہی مفصل کارروائی جناب ورو صاحب نے آنحضور کو بھیج دی ہو گی۔میرا بھی خیال ہے پنجاب آنے کا۔انشاء اللہ شرف قدم بوسی حاصل کروں گا۔احراری خیال کے چند افراد غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ میں کشمیر کمیٹی کے ہاتھ کٹھ پتلی کا کھیل بنا ہوا ہوں کبھی کہتے ہیں کہ میرا عقیدہ بھی بدل گیا ہے مگر خداوند کریم بہتر جانتا ہے کہ میں کون ہوں اور کیا ہوں اس لئے ہمیشہ ان کو ذلیل ہونا پڑتا ہے۔مجھے امید ہے کہ جناب کی دعائیں ہمیشہ میرے شامل حال ہوں گی۔آخر مجھے اپنا بچہ سمجھتے ہوئے مجھے حق حاصل ہونا چاہئے کہ کبھی کبھی مجبوری کی وجہ سے جناب سے گستاخی کا بھی مرتکب ہو جاؤں اور پھر معافی بھی طلب کروں۔امید کرتا ہوں کہ جناب کا ارشاد گرامی جلدی ہی میری تسلی کر دے گا۔عبدالرحیم صاحب اور محمد سینی صاحب رفیقی کی طرف سے مودبانہ عرض و سلام- جناب کا تابعدار شیخ محمد عبد الله - مسلمانان کشمیر کی یہ نمائندہ کا نفرنس خالص مسلم مسلم کانفرنس کے دوسرے اجلاس تنظیم کی حیثیت سے ۱۹۳۸ء تک مصروف عمل رہی اور ۱۹۳۲ء کے بعد اس کا دوسرا سالانہ اجلاس ۱۵-۱۲-۱۷ / دسمبر ۱۹۳۳ء کو بمقام میرپور منعقد ہوا۔تیسرا اجلاس سوپور میں ۱۱- ۱۲- ۱۳/ نومبر ۱۹۳۴ء کو ہوا جس میں جناب میاں احمد یار صاحب بی۔