تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 659 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 659

تاریخ احمدیت جلد ۵ 631 تحریک آزادی کشمیر او ر جماعت احمد به راجہ صاحب پونچھ سے اپنی سہ روزہ ملاقات کے حالات بیان کئے جو رو زپانچ اور سات گھنٹہ تک جاری رہتی تھی۔مسلمانان کشمیر نے شاہ صاحب پر پھول نچھاور کئے۔شاہ صاحب نے اختتام تقریر میں نمائندوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اختلافات ختم کر کے ایک متحدہ محاذ قائم کریں تا کامیاب ہوں۔حضرت شاہ صاحب کے بعد مفتی ضیاء الدین صاحب نے کشمیر کمیٹی اور بالخصوص اس کے واجب الاحترام صدر ( حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی) کی بیش قیمت خدمات کو خراج تحسین ادا کیا۔مسلم کانفرنس کے اس پہلے اجلاس میں کانفرنس کا مفصل آئین و دستور مرتب کیا گیا۔اور ریاست کے طول و عرض میں اس کی شاخوں کا قیام عمل میں آیا۔اس کے اغراض و مقاصد میں خاص طور پر مسلمانان کشمیر کے حقوق و سیاسی مفاد کا تحفظ شامل کیا گیا۔اور ایک سوارکان کی ایک جنرل کو نسل اور AM پچاس ارکان کی مجلس عاملہ مرتب کی گئی اور مندرجہ ذیل حضرات بحیثیت عہدیدار منتخب کئے گئے۔شیخ محمد عبد الله صاحب (صدر)، چوہدری غلام عباس صاحب (جنرل سیکرٹری)، میاں احمد یار صاحب مظفر آباد مولوی عبدالرحیم صاحب سرینگر ، شیخ عبد الحمید صاحب جموں (سینٹر پریذیڈنٹ) عبدالحکیم صاحب ، غلام احمد صاحب I اس طرح مسلمانان کشمیر کی پہلی اور واحد نمائندہ تنظیم " آل کشمیر مسلم کانفرنس" کی بنیاد پڑی جس نے آئندہ چل کر تحریک آزادی کشمیر کو فروغ اور ترقی دینے میں عمدہ خدمات انجام دیں اس کے بل بوتے پر کشمیر اسمبلی کے لئے الیکشن لڑا گیا۔شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کا مکتوب حضرت امام جماعت احمدیہ کے نام شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے کانفرنس کے پہلے اجلاس کے بخیر و خوبی ختم ہونے پر ۲۲/ اکتوبر ۱۹۳۲ء کو مندرجہ ذیل مکتوب لکھا۔S۔M۔ABDULLATH۔M۔S۔c (ALIG) SRINAGAR 22۔OCT۔1932 جناب محترم میاں صاحب دام اقبالہ السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔نہ میری زبان میں طاقت ہے اور نہ میرے قلم میں زور اور نہ میرے پاس وہ الفاظ ہیں جن سے میں جناب کا اور جناب کے بھیجے ہوئے کارکن مولانا درد سید زین العابدین صاحب وغیرہ کا شکریہ ادا کر سکوں۔یقینا اس عظیم الشان کام کا بدلہ جو کہ آنجناب نے ایک بے کس اور مظلوم قوم کی بہتری کے لئے کیا ہے۔صرف خدائے لا یزال سے ہی مل سکتا ہے۔میری عاجزانہ دعا ہے کہ خداوند کریم آنجناب کو زیادہ زیادہ طاقت دے تاکہ آنحضور کا وجود مسعود بے کسوں کے لئے سہارا ہو۔شاید جناب عاجز سے ناراض ہوں کہ میں نے جناب کے ارشادات گرامی کے جواب دینے میں