تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 648 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 648

سامان ساتھ لینے کی بجازت دے لے گئے۔مجھے گورنر صاحب کی کو بھی پر ہی اسکا پتہ لگا تو میں نے گورنر جم سے کہا کہ اب میرا یہاں رکنا بے سود ہو۔اور میں واپس چلا آیا واپس آکر بیٹھا ہی تھا کہ پولیس افسر ہوسی پوٹ میں داخل ہو گئے دور جمع نوٹ aane کیا کہ میں کسی جلسہ یا جلوس میں شریک نہ ہوں۔اس طرح کے نوئی مورد نا میرک شاه جاب - مفتی جلال الدین باب اور مسٹر عدم محراب کو بھی دے گئے۔آخر ہم حیران ہوئے کہ یہ کیا ہوتا ہے جبکہ ہمیں قطعاً کسی قانون کو توڑنے کا خیال نہ تھا اور ملک کی فضا بھی یا لکل صاف تھی۔میں نے موموی چرک شاہ صاحب سے عرض کیا کہ آپ خانقاہ معلی کے بالائی طبقہ میں جا کر مذہبی رنگ میں دودھ کا دریا کے کریں اور مضارب طریق سے مفتی طاب کے متعلق بھی لوگوں کو تیا دیں اور تاکید کریں کہ لوگ بالکل پرامن ہیں۔لیکن مولوی حباب نے اسوقت ایسا کرنا نہ چاہے۔لوگ کثرت سے خانقاہ معلی میں مفتی جاب کے متعلق سننے کے لئے جمع ہو گئے تھے اور خانقاہ معلی کے خداموں نے جو اب تک ہمارے ساتھ تھے اسوقت بے رضی کرنی چاہی اور وہ اسطرح کہ خانقاہ معلی کے بایاتی طبقہ میں اس خوف سے کہ ہم آکر کوئی وعظ ہے لیکچر نہ کردیکی قفل کا رنگا رہا مجھے حیرت ہوئی کہ ایک طرف تو حکومت بے به سختی پر اترائی پر اور دوسری طرف وہ لو گے ہمارے ساتھ تھے تمہارے واللہ میں روڑا اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ لوگ اسکے کا میاب ہو گئے اور ہمارے لئے جگہ بند کر دی تو یہ ایک قسم کی ہماری جماعت کی تو نہیں ہوگی۔اسکا برا اثر ہم پر پڑیگا۔آخر جب موسوی برک شاہ کا نے وعظ نہ کئے جانا پسند نہ تنہا اور حالات ایسے ہو گئے تو میں نے اپنی جماعت کے وقار کی خاطر وہاں جانا منظور کر لیا ا که خود جا کر وعظ کردی۔اور لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کروں چنانچہ رسا وعظ کا یہی موضوع تھا اور میں نے لوگوں کو نہیں کہا کہ وہ با مکمل پر امن رہیں۔قانون کو بالکل نہ توئیں اور آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہیں۔لیکن میری پرانی اور صلح جویانہ پالیسی کو حکومت نے خلاف قانون قرار دیا اور تھے واپسی پر پانچ دیگر کارکنوں کے ساتھ گرفتار کر لیا۔اور وے بعد حکومت نے بلا بھ گر فتاریوں کے تسلسلہ کو