تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 647 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 647

حبوبہ کشمیر میں موجود کے تین نمائندوں کو بلا جو حکومت نے گرفتار کر لیا۔اور جب میں نے انکے لئے کوشش کرنی چاہی تو حکومت کیلوف سے جواب ملا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور نہ انکی اپیل ہو سکتی ہے۔اسکے فوراً بعد ہی سختی ضیاء الدین جاب کو یہاں سے نکالا یا گیا۔ہیں نے زور دیا کہ اسطرح سے انہیں نہ نگا رہ جاتا اور انکے ہے۔ہر طعے کی ضمانت پیش کی یکیکی گورنر تھا کر کرتار سنگھ نے کسی بات کو نہ مانا۔آخر بمشکل میں نے تین دن کی لت می تا کہ میں خود مفتی جب کو اپنے ہمراہ جموں ہجاؤں۔اس عرصہ نہیں میں نے حقوم مہاری بہادر اور پرائم منتر کا کو تار دیئے جنکا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔اس دوران میں ایک رات گیارہ بجے کے قریب گورنر نے تجھے فون پر مولوی محمد اسماعیل خاب غزنوی سے ملایا دوسرا دن صبح مفتی صاحب کا آخری دن تھا اور حکومت تو کسی معاہدہ کا نسلوں تھا۔غزنوی حجاب جیون سل کے کہاں سے فون پر باتیں کر رہے تھے میں نے یہاں کے حالات اُن سے کہے تو انہوں نے یقین دلایا کہ وہ وزیر اعظم اب سے ملکہ دیگو شن کی واپسی - مفتی ضیا والدین کے متعلق احکام کی واپسی اور نمایندگان سوپور کی ڈائی کی کوشش میں کامیاب ہو جائینگے اور یہ علی کہا کہ ان باتوں کے متعلق جواب لینے کے لئے میں پھر اُن سے دوسرے دن صبح گور نواب کی کو ئی ہیں فون پر ملوں۔میں نے الوقت یہ بھی پوچھا کہ جج مفتی ضیاء الدین کلب کا جانی کا آخری دن ہجر کیا ہیں ، نکو بھی ساتھ بتا آؤں۔تو انہوں نے کہا کہ نہیں انکوں تھے لو نیکی ضرورت نہیں۔اور پورا اطمینان دیدیا کہ مفتی صاحب کے متعلق احکام دریس سے لے جائینگے۔بشر ہیکہ وہ حکومت کے قدرت سخت تقاریر نہ کریں۔میں نے انہیں اسکا اطمیستان دیر یا اور واپس آیا دوست دن وقت مقررہ پر جب میں فون پر گیا تا کہ حالات منوں اور معلوم کردن که وزیر اعظم کے ساتھ غزنوی چاپ روژه نے کہا ہے کیا ہو۔تو گورز جاب نے بلا وجہ مجھے انتظار میں رکھا کبھی کہا کہ وزیر اعلام حجاب کپڑے نہیں رہے میں اور کبھی کہا کہ چند منٹ انتظار کریں وزیر اعظم جاب ابھی ملتے غرض اس طرح مجھے دیر تک اپنے ہاں رو کے رکھا اور ہری غیر حاضری میں گور کرنے ہوس بوٹ کے باہر پولیس کا زبردست مظاہرہ کیا اور مفتی صاحب بغیر کستی سم کا بھی