تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 639 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 639

یت ، جلد ۵ 627 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل ششم) و آل جموں و کشمیر مسلم پولٹیکل کانفرنس" کی بنیاد مسلم کانفرنس کے قیام کی تحریک ریاست میں سیاسی انجمنوں پر پابندی تھی مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تحریک آزادی کشمیر کی باگ ڈور سنبھالتے ہی مسلمانان کشمیر کی اندرونی تنظیم کی طرف پوری توجہات مبذول کر دی تھیں اور جونہی ریاستی حالات میں کچھ سکون ہوا۔اور (گلانسی کمیشن کی رپورٹ کے بعد) فضا سازگار ہوئی۔آپ نے ایک مطبوعہ مکتوب (برادران کشمیر کے نام آٹھواں خط) میں اہل کشمیر کو خاص طور پر تحریک فرمائی کہ ایک ضروری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کامیابی کو دیکھ کر ہندوؤں نے بھی ایجی ٹیشن شروع کیا ہے۔اور وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو جو تھوڑے بہت حقوق ملے ہیں۔وہ بھی انہیں حاصل رہیں۔اگر اس موقعہ پر مسلمانوں نے غفلت سے کام لیا۔تو ہند و یقیناً اپنا د عا حاصل کرلیں گے پس اس وقت ضرورت ہے کہ مسٹر عبد اللہ کی عدم موجودگی میں ایک انجمن مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت میں بنائی جائے۔اور وہ انجمن اپنی رائے سے حکومت کو اطلاع دیتی رہے۔ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن کے اصول پر اگر ایک انجمن تیار ہو تو یقیناً اس کے ذریعہ سے بہت سا کام کیا جا سکتا ہے۔یہ مت خیال کریں کہ بغیر اجازت کے انجمن نہیں بن سکتی۔انجمنوں کی ممانعت کا کوئی قانون دنیا کی کوئی حکومت نہیں بنا سکتی۔آخر ہندو انجمنیں بنا رہے ہیں آپ کی انجمن نہ خفیہ ہو گی نہ باغیانہ۔پھر حکومت اس بارہ میں کس طرح دخل دے گی۔میں امید کرتا ہوں کہ نوجوان فورا اس طرف قدم اٹھائیں گے اور اس ضرورت کو پورا کریں گے ورنہ سخت نقصان کا خطرہ ہے۔اور بعد میں پچھتانے سے کچھ نہ ہو گا"۔یہ زمانہ مسلمانان کشمیر کے لئے ہر لحاظ سے نہایت نازک زمانہ تھا چنانچہ جناب چوہدری غلام عباس صاحب کا اقرار ہے کہ اس وقت تک مسلمانوں نے جو کچھ کیا تھا۔وہ بے سرو سامانی اور افراتفری کی حالت میں کیا تھا نہ مسلمانوں کا کوئی فنڈ (بیت المال) تھا اور نہ کوئی باقاعدہ ذریعہ آمدن کہ جس سے جماعتی اور قومی امور خوش اسلوبی اور بے فکری سے پورے ہو سکتے۔قریباً قریباً تمام کارکن نو عمر تھے نہ ان کا کوئی ذاتی سرمایہ تھا اور نہ کوئی ذریعہ معاش " -