تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 634
تاریخ احمدیت جلد ۵ 622 تحریک آزادی کشمیر اد ر جماعت احمدیه دونوں مطالبات کو ابھی عملاً پورا نہیں کیا گیا۔حالانکہ ان کے فوری طور پر پورا ہونے میں کوئی مشکل نہ تھی۔ریاست اور انگریزی علاقہ میں اس بارہ میں ایک سے حالات ہیں اور جو قانون انگریزی علاقہ میں ہے کوئی وجہ نہیں کہ ریاست میں وہ فورا جاری نہ ہو سکے۔مطالبہ نمبرے کے متعلق سنا گیا ہے کہ مسٹر کنسی رپورٹ کر چکے ہیں کہ پرلین اور انجمنوں اور تقریر کی آزادی دی جائے۔اگر یہ خبر صحیح ہے تو یہ امر اور بھی قابل افسوس ہے کہ اب تک اس کے متعلق فیصلہ نہ کر کے فضا کو خراب ہونے دیا گیا ہے۔مطالبہ نمبر آٹھ بھی ایسا مطالبہ ہے کہ جس کے متعلق انگریزی حکومت کو جہاں ہندو آبادی کی اکثریت ہے ایک فیصلہ کر چکی ہے اگر اس قانون کو ریاست کشمیر میں کہ جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے جاری کر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔مطالبہ نمبر نو کے متعلق ہز ہا ئینیس نے مہربانی فرما کر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ اپنی رعایا کو زیادہ سے زیادہ حکومت میں حصہ لینے کا موقعہ دیں گے۔لیکن یہ الفاظ اصل مطالبہ پر حاوی نہیں۔ہز ہائینس کی رعایا کا مودبانہ مطالبہ یہ تھا کہ حکومت کے انتظام کی ترتیب ایسی ہو کہ آہستہ آہستہ حکومت نمائندہ ہو جائے۔ہر ہائیس مہاراجہ صاحب بہادر کے وعدہ کے الفاظ ایسے ہیں کہ اگر صرف ملازمتیں مسلمانوں کو زیادہ دے دی جائیں تو ان الفاظ کا مفہوم ایک گونہ پورا ہو جائے گا۔حالانکہ اصل مطالبہ اور ہے۔پس اگر اس امر کی تسلی دلا دی جائے کہ " ON ,"INCREASING ASSOCIATION" سے مراد نمائندہ حکومت کے اصول پر حکومت کو قائم کرنا ہو گا۔خواہ اس کی پہلی قسط آخری قسط کو پورا کرنے والی نہ ہو تو یہ امر یقینا رعایا کی تسلی کا موجب ہو گا۔مطالبات کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد میں یہ زائد کرنا چاہتا ہوں کہ بعض حالات ان مطالبات کے تیار ہونے کے بعد حوادث زمانہ کی وجہ سے یا ریاست کے بعض اعلانات کی وجہ سے نئے پیدا ہو گئے ہیں ان کے متعلق ہمدردانہ غور بھی ضروری ہے کیونکہ ان کے تصفیہ کے بغیر فساد کا منا مشکل ہے۔سب سے پہلا سوال زمینداروں کی اقتصادی حالت تباہ ہو جاتا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ ریاست جموں کی سرحد اس حکومت سے ملتی ہے جس نے اس زمانہ میں جمہوریت کا ایک نیا مفہوم پیدا کیا ہے اور اس سے تمام دنیا میں ہیجان پیدا ہو گیا ہے۔زمینداروں کی موجودہ تباہی نے ان خیالات کو رائج کرنے میں بے انتہا مدد دی ہے۔انگریزی حکومت نے باوجود قیام امن کی خاطر کثیر رقوم خرچ کرنے کے اس وقت زمینداروں کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ریاست جموں نے بھی اپنے مالیہ میں