تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 633
تاریخ احمدیت جلد ۵ 621 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به فیصلہ فورا کیا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کے متعلق فوری فیصلہ کرنے میں کوئی روک نہیں۔اور وہ ہر گز کسی قسم کے کمشن کے قیام کے محتاج نہیں ہیں۔مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ اب تک ان مطالبات کے متعلق کوئی کارروائی اس رنگ میں نہیں ہوئی کہ مسلمانوں کی تسلی کا موجب ہو۔سب سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ جن حکام نے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو صدمہ پہنچایا ہے انہیں مناسب سزا دی جائے دلال کمیشن حالا نکہ مسلمان اس پر خوش نہیں تسلیم کرتا ہے کہ ایک انسپکٹر پولیس نے خطبہ سے امام کو روک کر فساد کی آگ بھڑکائی لیکن اس وقت تک اسے کوئی سزا نہیں دی گئی اور نہ اس شخص کو جس نے قرآن کی بنک کی تھی کوئی سزادی گئی۔اس کا ریٹائر ہو نا طبعی وقت پر ہوا ہے اور وہ کوئی سزا نہیں۔دو سرا مطالبہ جو مقدس مقامات کے متعلق تھاوہ ایک حد تک پورا ہو رہا ہے۔لیکن اول تو ابھی بہت سے مقدس مقامات واگزار ہونا باقی ہیں۔علاوہ ازیں جو مسجد واگزار کی گئی ہے۔یعنی پتھر مسجد وہ ایسی خراب حالت میں ہے کہ مسلمانوں پر اس کی مرمت کا بوجھ ڈالنا ایک سزا ہو گا۔اس کے متعلق ضروری ہے کہ مسجد کے گرد کا علاقہ بھی اگر اب تک واگزار نہیں ہوا۔واگزار کیا جائے۔نیز ریاست کو چاہئے کہ مسجد کی مرمت کے لئے بھی ایک معقول رقم دے تاکہ مسجد کے احترام اور تقدس کے مطابق اس کی واجبی مرمت کروائی جاسکے۔تیسرا مطالبہ بھی مکمل طور پر پورا نہیں کیا گیا۔کیونکہ بعض ایسے ملازم ہیں کہ جن کو گواہیاں دینے یا مسلمانوں کی ہمدردی کے جرم میں دوریا خراب مقامات پر تبدیل کر دیا گیا ہے اور ابھی تک انہیں اپنے مقامات پر واپس نہیں لایا گیا۔چوتھا مطالبہ تازہ فسادات میں مقتولوں کے وارثوں اور زخمیوں کو معارضہ اور گزارہ دینے کا تھا۔جہاں تک مجھے بتایا گیا ہے اس کو بھی اب تک عملاً پورا نہیں کیا گیا اور اکثر غرباء اب تک فاقوں مرد ہے ہیں۔حالانکہ یہ کام جس قدر جلد ہو تا خود ریاست کے حق میں مفید ہو تا اور رعایا کے دلوں میں محبت پیدا کرنے کا موجب۔مطالبہ نمبرہ کے متعلق بھی مناسب کارروائی نہیں ہوئی اور اب تک بعض سیاسی قیدی جیسے میاں عبد القدیر قید ہیں۔اگر ہنزہائیس ایسے قیدیوں کو چھوڑ دیں تو یقینا اچھی فضا پیدا ہو جائے گی۔مطالبہ نمبر کے متعلق کمیشن بیٹھ چکا ہے اور اس کے لئے ہم ریاست کے ممنون ہیں۔مطالبات نمبر سات آٹھ نو در حقیقت ایسے مطالبات ہیں کہ جن کا مسلمانوں کے حقیقی مفاد سے تعلق ہے۔بلکہ سات اور نو کا ریاست کی تمام رعایا کو فائدہ پہنچتا ہے۔ان میں سے نو کے سوا دو سرے