تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 628
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 616 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه ہے کہ سب کڑاہی سے نکل آئیں گے یا یہ کہ بعض کڑاہی سے نکل کر باہر آجا ئیں گے اور بعض آگ میں گر کر بھونے جائیں گے۔میں اس موقعہ پر حکومت کو بھی یہ نصیحت کروں گا کہ پبلک کے مفاد کا خیال رکھنا حکومت کا اصل فرض ہے۔اسے چاہئے کہ اپنے زور اور طاقت کو نہ دیکھے بلکہ اس کو دیکھے کہ خدا نے اسے یہ طاقت کیوں دی ہے ؟ حاکم اور محکوم سب ایک ہی ملک کے رہنے والے ہیں۔پس اگر وہ اپنی ہی رعایا کا سر کچلنے لگے تو یہ امر حکومت کی طاقت کے بڑھانے کا موجب نہیں ہو سکتا۔جو ہاتھ دوسرے ہاتھ کو کاٹتا ہے وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی جڑ پر تیر رکھتا ہے۔یہ اہالیان کشمیری ہیں جو ہزہائی نس مہاراجہ کی عزت کا موجب ہیں ان کو اپنے ہم عصروں میں عزت اسی سبب سے ہے۔کہ ان کی رعایا میں ۳۶ لاکھ افراد ہیں۔اور اگر وہ افراد ذلیل ہیں تو یقیناً ان کی عزت اتنی بلند نہیں ہو سکتی جتنی بلند کہ اس صورت میں کہ وہ افراد معزز ہوں۔پس ادنی ترین کشمیری ریاست کشمیر کی شوکت کو بڑھانے والا ہے۔اور وہ حکام جو اس کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ہیں اس کی عزت پر نہیں بلکہ ریاست کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ہیں۔اس نازک موقعہ پر انہیں صبر اور تحمل سے کام لینا چاہئے۔اور رعایا کے صحیح جذبات سے ہزہائی نس کو آگاہ رکھنا چاہئے کہ وفاداری کا یہی تقاضا ہے اور خیر خواہی کا یہی مطالبہ۔اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہز ہائی نس کو اپنی رعایا سے رحم اور انصاف کی اور حکام کو دیانتداری اور ہمدردی کی اور پالک کو سمجھ اور عقل کی توفیق دے تاکہ کشمیر جو جنت نظیر کہلاتا ہے۔جنت نہیں تو اپنے ان باغوں جیسا تو دلکش ہو جائے۔جن کی سیر کرنے کے لئے دور دور سے لوگ آتے ہیں۔واخر دعونا ان الحمد لله رب العلمين خاکسار میرزا محمود امام جماعت احمدیہ - قادیان سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے بعض نہایت اہم غیر مطبوعہ مکتوبات متوب (۱) الفیض لاہور ۲۵۰ / اکتوبر ۱۹۳۱ء۔مکرمی در دو غزنوی صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔آپ لوگوں کے کام سے نہایت خوش ہوں۔اللہ تعالی کامیاب فرمائے۔میں نے کل تار دیا تھا کہ بدھ تک کام بند کر دیں۔جواب بھی مل گیا ہے۔اس عرصہ میں احرار نے اعلان کیا ہے کہ جیون لال کی تار آئی ہے کہ میں آپ لوگوں سے ملنے کے لئے آ رہا