تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 619 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 619

ن جلده 607 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کی ریاست کی مختلف انجمنیں ریزولیوشنوں کے ذریعہ سے اس امر کا فیصلہ کریں اور حکومت کو اطلاع دیں کہ میں ان کے حقوق کے لئے حکومت کو مخاطب کرنے کا حق رکھتا ہوں۔میں تو یہ چاہتا ہوں کہ جو لوگ مجھ سے امداد چاہتے ہیں میں حسب وعدہ ان کی امداد کروں۔اور ان کی قومی آزادی اور ان کے حقیقی لیڈر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی آزادی کے لئے کوشش کروں اور انہیں چاہئے کہ وہ اس طرح مجھے اپنی خدمت کا موقع دیں۔۔۔۔۔۔موجودہ صورت حالات: اپنے کام کے اظہار کے بعد اب میں آپ لوگوں کو موجودہ صورت حال کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔آپ لوگ غالبا اس امر کو سمجھ چکے ہوں گے۔کہ بعض افسران ریاست نے یہ دیکھ کر کہ ریاست کے بعض سابق افسران کے مظالم اس قدر طشت از بام ہو چکے ہیں کہ سیاسی عذرات کے ماتحت کشمیر کے حقیقی لیڈروں کو قید کرنا۔ان کے لئے بالکل ناممکن ہے۔قومی خدام کو فساد اور شورش کے الزام کے نیچے گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔میں اس امر کا یقین رکھتا ہوں کہ بعض افسران ریاست کی نیت درست نہیں اور اس یقین کی وجوہ یہ ہیں۔-r میرے ایک نمائندہ سے ریاست کے ایک ہندو وزیر نے گزشتہ سال یہ الفاظ کہے تھے۔کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم آپ کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ہمیں بھی پارٹیاں بنانی آتی ہیں اور ہم بھی ریاست میں آپ کے خلاف پارٹیاں بنوا سکتے ہیں۔بعض لوگ جو شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے خلاف کوشش کر رہے ہیں۔ان کی نسبت یقینی طور پر ثابت ہے کہ وہ اس وزیر سے خاص تعلقات رکھتے ہیں۔باہمی مناقشات دیر سے شروع تھے۔لیکن نہ حکومت نے ان پر سختی سے نوٹس لیا اور نہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو اس کا ذمہ دار بنایا۔لیکن آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اس اجلاس کے بعد جس میں مسٹر مہتہ کے خلاف ریزولیوشن تھا۔یکدم ریاست میں بھی ہل چل شروع ہو گئی۔اور بعض ریاست کے افراد نے باہر آکر لوگوں کو اکسانا شروع کیا کہ کمیٹی کا احمد ی صدر نہیں ہونا چاہئے اور ان ایجنٹوں میں سے ایک نے اپنے ایک ہم خیال لیڈر سے لاہور میں کہا کہ اگر آپ چاہیں۔تو میں پندرہ سولہ ہزار فورا مہیا کر سکتا ہوں۔پھر اس نے کشمیر جاکر اپنے ایک دوست کو لکھا۔کہ میں لاہور میں آگ لگا آیا ہوں۔اب چاہئے کہ یہ آگ سلگتی رہے۔اور مجھے نہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسٹر متہ کے بعض ہوا خواہوں نے یہ کارروائی کی ہے۔ورنہ واقعات کا یہ اجتماع کس طرح ہوا۔آدمی وہی ہیں، حالات رہی ہیں ، کام وہی ہیں۔پھر نتائج کیوں مختلف نکلنے