تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 620
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ لگے ؟ 608 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ یہ سب واقعات اور ان کے علاوہ اور بہت سے واقعات بتاتے ہیں کہ حکومت میں ایک ایسا عصر موجود ہے۔جس کی اصل غرض یہ ہے کہ کسی طرح لوگوں کی ہمدردی کو شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے ہٹا کر دوسری پارٹی کی طرف کر دیا جائے۔یا کم سے کم ان کی پارٹی کو کچل دیا جائے۔مگر کیا نوجوانان کشمیر اس بے غرض خدمت کو بھول جائیں گے جو ان کے لیڈر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے نہایت مخالف حالات میں کی ہے؟ میں امید کرتا ہوں کہ کشمیر کے تمام غیور باشندے اس سوال کا جواب یک زبان ہو کر یہی دیں گے کہ ہر گز نہیں۔۔۔۔آپ لوگوں کو چاہئے کہ ہر قسم کے فساد سے بچیں۔وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ کشمیر آزاد نہ ہو۔فساد ڈلوانے کی پوری کوشش کریں گے۔مگر آپ کا فرض ہے کہ قانون شکنی نہ کریں۔اور صرف اپنے کام سے کام رکھیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ باوجود قانون کا احترام اور ادب کرنے کے فتح حاصل ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے۔اور اگر آپ لوگ میری ہدایتوں پر عمل کریں تو مجھے یقین ہے کہ آپ کو بغیر کسی فساد کے کامیابی ہوگی۔آپ پچھلے سال دیکھ چکے ہیں کہ میرے مشورے آپ کے لئے مفید ثابت ہوئے ہیں۔اب پھر آپ لوگ تجربہ کرلیں۔یہی راہ آپ کے لئے مفید ثابت ہو گی۔کہ قانون نہ توڑیں اور غیر ضروری شور نہ مچائیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے ایسے راستے کھولے ہیں کہ وہ بغیر قانون شکنی کے اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر امن کی وہ طاقت رکھی ہے کہ شورش پسندی کو وہ طاقت ہرگز حاصل نہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ پہلے بھی ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں۔مگر میں آپ کو مزید ہو شیار کرنا چاہتا ہوں۔آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر آپ آپس میں لڑیں گے تو سب مسلمانوں کی ہمدردی آپ سے جاتی رہے گی۔اور آپ اکیلے رہ جائیں گے۔اور دشمنوں کا شکار ہو جائیں گے۔آئندہ کے لئے دستور عمل: اب میں آپ کو آئندہ کام کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب حکومت سختی پر اتر آئے تو انجمنیں کام نہیں دے سکتیں۔پس جب تک شیخ صاحب باہر نکلیں تو جوانوں کا فرض ہے کہ قومی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے اپنی تنظیم کریں۔اور اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ سرینگر جیسے شہر میں تو محلہ دار قومی خدمت کا درد رکھنے والے لوگ آپس میں سے ایک ایک شخص کو اپنا لیڈر بنالیں۔اس کا نام خواہ ڈکنٹینر رکھیں یا کچھ اور مگر بہر حال محلہ دار ایک ایک لیڈر ہونا چاہئے۔اور اس کے بعد محلوں کے لیڈر اپنے میں سے ایک لیڈر تجویز کرلیں۔جو سارے شہر