تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 617 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 617

تاریخ احمدیت جلده 605 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه جائے۔اس وقت تک اندرونی دباؤ ریاست پر نہیں پڑ سکتا۔اس کے لئے میں نے اپنا پہلا خط شائع کیا۔اور کشمیر کے کام کے متعلق جو لوگ سرگرم ہیں انہیں ہدایت کی کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔چنانچہ خدا تعالٰی کے فضل سے اس میں بہت حد تک کامیابی ہوئی۔اور میں اس بارہ میں صوبہ جاتی انجمنوں کا ممنون ہوں۔کہ انہوں نے شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے اظہار وفاداری کر کے میرے ہاتھوں کو بہت مضبوط کر دیا۔دوسری بات میں نے یہ سوچی۔کہ ریاست کے حکام کو توجہ دلاؤں۔تاکہ وہ زور اور طاقت کے استعمال کو چھوڑ کر تحمل اور دلیل کی طرف توجہ کریں۔مگر افسوس کہ اس بارہ میں مسٹر کالون کا رویہ اتنا ہمدردانہ ثابت نہیں ہوا۔جس قدر کہ مجھے ان سے امید تھی۔مجھے ان پر اب تک حسن ظنی ہے۔لیکن میرے نزدیک انگریز جس قدرا انگریزی علاقہ میں مفید کام کر سکتے ہیں۔ریاست میں نہیں کر سکتے۔کیونکہ ریاستوں میں دیانتدار کارکنوں کا ملنا بہت دشوار ہوتا ہے۔اور بغیر اچھے نائیوں کے انسان اچھا کام نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ انگریز بھی اس خیال میں مجھ سے متفق ہیں۔کیونکہ اگر وہ ہندوستانیوں کو حکومت کا پورا اہل سمجھتے۔تو ہندوستان کو آزادی دینے میں اس قدر پس و پیش کیوں کرتے۔اس بارہ میں میں نے جو کچھ کیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے اس کام کے لئے سید زین العابدین صاحب کو مقرر کیا۔کہ وہ مسٹر کالون اور مسٹر پیل سے جاکر ملیں۔اور ان کے آگے تمام حالات رکھ کر انہیں موجودہ مظالم کے دور کرنے کی ترغیب دیں۔ان کے ساتھ شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو میں نے اس لئے بھجوایا۔تاکہ وہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے مل کر ان کی طرف سے قانونی طور پر کار روائی کریں اور اسی طرح گزشتہ فسادات میں جو میر واعظ صاحب ہمدانی اور ان کے معتقدوں کے خلاف بعض خلاف قانون کارروائیاں ہوئی ہیں یا مقدمات چلائے گئے ہیں۔اس میں قانونی امداد دیں۔آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ مہذب دنیا کے معروف دستور کے خلاف گورنرنے ان دونوں صاحبوں کو فورا ریاست سے نکلنے پر مجبور کیا۔حکم کے الفاظ یہ تھے کہ آپ لوگوں کے گزشتہ اعمال سے یہ ثابت ہے کہ آپ سری نگر میں فساد کرانے کی نیت سے آئے ہیں۔شیخ بشیر احمد صاحب تو وکیل ہیں۔خود اپنی طرف سے ہائی کورٹ کو توجہ دلائیں گے مگر سید زین العابدین صاحب کے متعلق جو حکم دیا گیا تھا۔اس کے متعلق میں نے حکام کو تو جہ دلائی۔تو مجھے یہ جواب دیا گیا ہے۔کہ سید زین العابدین کی ہتک منظور نہ تھی بلکہ مطلب صرف یہ تھا کہ ان کے آنے سے لوگوں میں جوش پیدا نہ ہو۔لیکن حکم کے الفاظ واضح ہیں۔تعلم میں صاف یہ لکھا ہے کہ "فساد کرانے کی نیت سے آپ آئے ہیں"۔اور یہ کہ آپ کا گزشتہ طریق عمل اس بد نیتی کی تصدیق کرتا ہے۔پس حکام بالا کا یہ کہنا کہ ہمارا ہر گز یہ منشاء نہ تھا کہ شاہ