تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 38 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 38

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 38 خلافت ماشیہ کا پند میں جلسے منعقد کئے ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ تقریباً سب جگہ کامیاب جلسے ہوئے اور یہ تو ایک حقیقت ہے کہ اس نواح میں احمدیوں کو ایسی عظیم الشان کامیابی ہوئی ہے کہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوئی اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت احمد یہ روز بروز طاقتور ہو رہی ہے۔اور لوگوں کے دنوں میں جگہ حاصل کر رہی ہے ہم خود بھی ان کی طاقت کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کے متمنی ہیں "۔اخبار "کشمیری لاہور -۴- اخبار "کشمیری " لاہور (۲۸ / جون ۱۹۲۸ء) نے " ۱۷ / جون کی شام" کے عنوان سے یہ تبصرہ شائع کیا: مرزا بشیر الدین محمود احمد جماعت احمدیہ قادیان کے خلیفتہ المسیح کی یہ تجویز کہ ۱۷ جون کو انحضرت ﷺ کی پاک سیرت پر ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں لیکچر اور وعظ کئے جائیں باوجود اختلافات عقائد کے نہ صرف مسلمانوں میں مقبول ہوئی بلکہ بے تعصب امن پسند صلح جو غیر مسلم اصحاب نے ۱۷/ جون کے جلسوں میں عملی طور پر حصہ لے کر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔۱۷ جون کی شام کیسی مبارک شام تھی کہ ہندوستان کے ایک ہزار سے زیادہ مقامات پر به یک وقت و به یک ساعت ہمارے برگزیدہ رسول کی حیات اقدس ان کی عظمت ان کے احسانات و اخلاق اور ان کی سبق آموز تعلیم پر ہندو مسلمان اور سکھ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔اگر اس قسم کے لیکچروں کا سلسلہ برابر جاری رکھا جائے تو مذہبی تنازعات و فسادات کا فوراً انسداد ہو جائے۔۱۷ جون کی شام صاحبان بصیرت و بصارت کے لئے اتحاد بین الا قوام کا بنیادی پتھر تھی ہندو اور سکھ مسلمانوں کے پیارے نبی کے اخلاق بیان کر کے ان کو ایک عظیم الشان ہستی اور کامل انسان ثابت کر رہے تھے۔بلکہ بعض ہندو لیکچرار تو بعض منہ پھٹ معترضین کے اعتراضات کا جواب بھی بدلائل قاطع دے رہے تھے۔آریہ صاحبان عام طور پر نفاق و فساد کے بانی بتائے جاتے ہیں اور سب سے زیادہ یہی گروہ آنحضرت ا کی مقدس زندگی پر اعتراض کیا کرتا ہے۔لیکن ۱۷ / جون کی شام کو پانی پت انبالہ اور بعض اور مقامات میں چند ایک آریہ اصحاب نے ہی حضور کی پاک زندگی کے مقدس مقاصد پر دل نشین تقریریں کر کے بتا دیا۔کہ اس فرقہ میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دو سرے مذاہب کے بزرگوں کا ادب و احترام اور ان کی تعلیمات کے فوائد کا اعتراف کر کے اپنی بے تعصبی اور امن پسندی کا ثبوت دے سکتے ہیں۔۱۷ جون کی مبارک شام کو جن مقامات پر ہندو اور سکھ اصحاب نے ہمارے رسول پاک ایلاتی