تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 612 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 612

تاریخ احمدیت جلد ۵ 600 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به سے زیادہ کمزور تھے۔مگر صحیح ذرائع سے کام لے کر خدا تعالی کی امداد سے بہت بڑی کامیابی حاصل ہو گئی۔اب بھی خدا تعالٰی کے فضل سے حالات کو بدلا جا سکتا ہے۔اور اگر آپ صحیح طریق اختیار کریں گے تو انشاء اللہ جلد حالات بدل جائیں گے۔صرف ضرورت ہمت استقلال اور قانون کے اندر رہ کر کام کرتے ہوئے قربانی اور ایثار کی ہے۔سو جس دن آپ لوگ پہلے کی طرح پھر کمر باندھ لیں گے۔انشاء اللہ غم کے بادل پھٹ جائیں گے۔اور خوشی کا سورج نکل آئے گا۔مگر یاد رہے کہ قومی آزادی ایک دن میں نہیں ملتی۔ہاں آزادی کی قسطیں صحیح جدوجہد سے یکے بعد دیگرے ملنی شروع ہو جاتی ہیں۔حکومت کی آپ لوگ پوری نگرانی رکھیں کہ گلینسی رپورٹ پر عمل ہوتا ہے یا نہیں۔جہاں نقص معلوم ہو۔فورا اس کی اطلاع آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن کو یا مجھے دیں۔ہم تحقیق کر کے انشاء اللہ حکومت پر دباؤ ڈالیں گے۔کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مکلنسی رپورٹ میں جو کچھ ملا ہے۔وہ ہمارے مطالبات سے بہت کم ہے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں۔کہ اگر اس پر عمل ہو۔تو مسلمانوں کی حالت موجودہ حالت سے اچھی ہو جاتی ہے۔پس مطابق مثل یکی را بگیر و دیگری راد عونی بکن جو ملا ہے اسے تو لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور باقی مطالبات کے لئے جد وجہد کو جاری رکھنا چاہئے۔یہی طریق احسن ہے۔اور اس میں کامیابی کا راز ہے۔حکومت موجودہ شورش سے فائدہ اٹھا کر گلنسی رپورٹ کو عملاً داخل دفتر کرنا چاہتی ہے۔ہمارا کام ہے کہ ہوشیاری سے اس پر عمل کرائیں۔اور اگر وہ عمل نہ کرے تو حکومت ہند اور حکومت انگلستان کے سامنے اس معاملہ کو پیش کریں۔اگر باری باری ایک ایک مسئلہ کو لے کر زور دیا گیا۔تو آپ دیکھیں گے کہ زور زیادہ پڑ سکے گا۔اور کامیابی زیادہ یقینی ہوگی۔سب امور کو اکٹھا پیش کرنے پر حکومت برطانیہ جواب دے دیتی ہے کہ آخر ان کاموں کے لئے وقت چاہئے۔لیکن اگر ایک امر کو لے کر کشمیر اور باہر کی طاقت اس پر خرچ کر دی جائے تو یقیناً کشمیر دربار معین صورت میں احکام جاری کرنے پر مجبور ہو گا۔مثلا سب سے پہلے ملازمتوں کے سوال کو لے لیا جائے۔اس سوال کے حل ہو جانے سے آپ کو آدھی فتح حاصل ہو جاتی ہے۔کیونکہ علاوہ مالی فائدہ کے حکومت میں ایک کافی تعداد ایسے لوگوں کی آجاتی ہے۔جن کے دل آپ کی ہمدردی سے پر ہوں گے۔اسی طرح ایک ایک کر کے مختلف مسائل کو لیا جائے تو یقینا نہ تو حکومت مہلت کا مطالبہ کر سکتی ہے۔اور نہ اسے اس چھوٹے سے امر کے لئے ساری اسلامی طاقت کا مقابلہ کرنے کی جرات ہو سکتی ہے۔