تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 611 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 611

تاریخ ام جلده 599 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ اپنا ہی نقصان نہیں۔قوم پر بھی علم ہے۔- دوسرا مشورہ میرا یہ ہے کہ اگر حکام ظلم بھی کریں۔تب بھی آپ لوگ اس کا جواب خود نہ دیں۔بلکہ قانونی طور پر اس کے ازالہ کی کوشش کریں۔قانونی کوشش لمبی ہوتی ہے۔لیکن اس کا اثر بہت اعلیٰ پڑتا ہے۔اور غیر کو بھی اس کا جواب دینے کی جرات نہیں پڑتی۔آخر ایک لمبے تجربہ سے آپ معلوم کر چکے ہیں۔کہ خود جواب دے کر بھی ظلم کا ازالہ نہیں ہو تا۔بلکہ ظالم کو ظلم کا اور موقعہ ملتا ہے۔پس کیوں نہ صبر کے ساتھ کوشش کی جائے۔اور ایک دفعہ ظالم حکام پر اس طرح حجت کر دی جائے۔کہ پھر ان کے لئے منہ دکھانے کی صورت نہ رہے۔بے شک آپ کا بہت کچھ نقصان ہوا ہے۔لیکن آخر چوری ہے ، تجارتی نقصان سے طوفان سے اور دیگر حوادث سے بھی تو نقصان ہو جاتا ہے۔اگر قوم کی خاطر نقصان ہو گیا۔تو کیوں آپ اس قدر پریشان ہوتے ہیں۔در حقیقت یہ نقصان نقصان نہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ایک تجارت ہے۔صبر کے نتیجہ میں یہ نقصان آپ کو نفع سمیت واپس ملے گا۔اور وہ دن دور نہیں کہ خدا تعالی آپ کی مظلومیت کی فریاد کو سنے گا۔اور ظالم زیر کئے جائیں گے۔اور آپ کو غلبہ دیا جائے گا۔ظلم پہلے کب کامیاب ہوا ہے۔کہ اب کامیاب ہو گا۔پس ظلم پر صبر کریں۔یعنے اس کے جواب کے لئے خود ہاتھ نہ اٹھائیں۔بلکہ قانون کے اندر رہ کر ظالم کو سزا دلانے کی کوشش کریں۔اور سب کاموں سے زیادہ تنظیم کی طرف توجہ کریں۔جب تک آپ کے ملک میں تنظیم نہ ہو گی۔کچھ نہ ہو سکے گا۔منتظم ملک پر ڈا کے نہیں ڈالے جاسکتے۔پس آپ اپنے آپ کو منظم کریں۔مگر تنظیم سے میری مراد یہ نہیں کہ ہر جگہ ایک انجمن ہو۔یہ امر بھی ضروری ہے۔اور اب تک یہ کام بھی نہیں ہوا۔لیکن میں تنظیم کے معنے اس سے زیادہ لیتا ہوں۔تنظیم کے معنے میرے نزدیک یہ ہیں کہ ایک تو سارے ملک میں ہر فرد بشر کو قومی تحریک کا ہمدرد بنایا جائے۔صرف جلسوں کا ہونا کافی نہیں۔بلکہ ہر شخص کا نمبر ہوتا اور ممبری کی علامت کا استعمال کرنا ضروری ہے۔میں نے بارہا سیاہ بلا لگانے یا ایسا ہی کوئی اور نشان لگانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔لیکن ابھی تک آپ لوگوں نے کوئی نشان قرار نہیں دیا۔اور نہ اس پر عمل کیا ہے۔حالانکہ جب تک حکومت کو یہ معلوم نہ ہو۔کہ کس قدر لوگ قومی تحریک میں شامل ہیں۔وہ مرعوب نہیں ہو مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔شروع شروع میں جب میں نے کام شروع کیا تھا۔آپ لوگ آج