تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 605
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 593 تحریک آزادی سمیر اور جماعت احمدیہ صاحب سے کبھی نہیں ملا اور نہ اس وقت تک خواہش ہے جب تک کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کے متعلق دباؤ سے نہیں بلکہ دلی رغبت سے غور کرنے کو تیار نہیں۔سر ہری کشن کول صاحب نے مجھے متواتر مہاراجہ صاحب سے ملنے کی دعوت دی لیکن میں نے نہیں مانا اور یہی اصرار کیا کہ مہاراجہ صاحب مسلمانوں کے حقوق کے متعلق میرے ساتھ گفتگو کرنا چاہیں تو مل سکتا ہوں ورنہ نہیں۔یہ خط و کتابت میرے پاس محفوظ ہے۔ان کی خوشنودی کی اس حد تک مجھے ضرورت ہے جس حد تک ہر انسان کی کیونکہ میں سب انسانوں کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں اور کسی بھائی سے لڑنا پسند نہیں کرتا۔باقی مجھے ان سے کوئی غرض نہیں۔کیونکہ خاندانی لحاظ سے میں ایک ایسے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں کہ جس نے ایک ہزار سال تک دنیا کی تاریخ کو اپنے قبضہ میں رکھا ہے۔اور وجاہت کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جس قدر جان فدا کرنے والے لوگ میرے ماتحت ہیں ان کا ہزارواں حصہ بھی مہاراجہ صاحب کو حاصل نہیں۔پس مہاراجہ صاحب تو کسی وقت میری مدد کے محتاج ہو سکتے ہیں۔میں ان کی مدد کا محتاج خداتعالی کے فضل سے نہیں اور نہ انشاء اللہ ہوں گا۔یہ تو حکومت کے متعلق ہے۔اب میں اہل کشمیر کو لیتا ہوں۔میں اپنے ان بھائیوں سے بھی صاف کہہ دینا چاہتا ہوں۔میرا ان سے تعلق اخلاقی ہے۔جب تک وہ مظلوم ہیں میں اپنا پورا زور ان کی تائید میں خرچ کروں گا۔لیکن اگر انہوں نے ایسا راہ اختیار کیا جو ا خلا قا درست نہ ہو گا۔تو میں اس وقت یقینا اس کی تائید کروں گا۔کہ جو حق پر ہو گا اور انہیں غلطی سے روکوں گا۔میں نے جو کچھ کام کیا ہے وہ ان کے لئے نہیں اپنے موٹی کے لئے کیا ہے۔پس میرا ان پر احسان نہیں۔نہ میں ان سے کسی شکریہ کا طالب ہوں ہاں میں انہیں کے فائدہ کے لئے انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ انسان کو ہر اچھی چیز کی خوبی تسلیم کرنی چاہئے۔گلنسی کمیشن کی رپورٹ یقیناً بہت سی خوبیاں رکھتی ہے۔اس میں یقینا مسلمانوں کی بھلائی کا بہت سا سامان موجود ہے۔اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے ہماری حالت پہلے سے بد تر ہو جائے گی درست نہیں۔اگر یہ درست ہے تو کیا یہ لوگ اس امر کا اعلان کرنے کو تیار ہیں کہ اس کمیشن کی سفارشات کو واپس لے لیا جائے۔۔۔۔۔ایک ضروری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کامیابی کو دیکھ کر ہندوؤں نے بھی ایجی ٹیشن شروع کیا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو جو تھوڑے بہت حقوق ملے ہیں وہ بھی انہیں حاصل رہیں۔اگر اس موقعہ پر مسلمانوں نے غفلت سے کام لیا تو ہند و یقینا اپنا مدعا حاصل کرلیں گے۔پس اس وقت ضرورت ہے کہ مسٹر عبد اللہ کی عدم موجودگی میں ایک انجمن مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت میں بنائی جائے۔اور وہ انجمن اپنی رائے سے حکومت کو اطلاع دیتی رہے۔ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن کے اصول پر اگر ایک انجمن تیار ہو تو یقینا اس کے ذریعہ سے بہت سا کام کیا جا سکتا ہے۔یہ مت خیال کریں کہ بغیر