تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 601
تاریخ احمدیت جلد ۵ 589 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سے ہم خوش نہیں ہو سکتے کیونکہ قانون کا غلط استعمال اچھے قانون کو بھی خراب کر دیتا ہے پس دیکھنا یہ ہے کہ ان فیصلہ جات پر مہاراجہ صاحب کی حکومت عمل کس طرح کرتی ہے ہمیں امید ہے کہ اب جبکہ انگریز وزراء آگئے ہیں اور انہوں نے ایک حد تک حقیقت کو بھی سمجھ لیا ہے پہلے کی نسبت اچھی طرح ان اصلاحات پر عمل ہو گا۔لیکن غیب کا علم اللہ تعالٰی کو ہی ہے اس لئے جب کہ ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں۔ساتھ ہی ہم اس سے عاجزانہ طور پر دعا بھی کرتے ہیں کہ وہ ان رپورٹوں کے اچھے حصوں کو نافذ کرنے کی وزراء اور حکام کو مناسب توفیق بخشے۔اللهم امين مجھے یقین ہے کہ اگر مجھے صحیح طور پر اس تحریک کی رہنمائی کا موقع ملا اور بعض امور ایسے پیدا نہ ہو جاتے کہ تفرقہ اور شقاق پیدا ہو جاتا تو نتائج اس سے بھی شاندار ہوتے لیکن اللہ تعالی کی مشیت کے آگے کوئی چارہ نہیں اور پھر ہم کہہ بھی کیا سکتے ہیں شاید جو کچھ ہوا اس میں ہمارا نفع ہو کیونکہ علم غیب تو اللہ تعالی کو ہی ہے۔مجھے سب سے زیادہ خوشی اس امر کی ہے کہ زمینوں کی ملکیت ریاست سے لے کر زمینداروں کو دے دی گئی ہے اگر سوچا جائے تو یہ کروڑوں روپیہ کا فائدہ ہے اور گو بظا ہر یہ صرف ایک اصطلاحی تغیر معلوم ہوتا ہے لیکن چند دنوں کے بعد اس کے عظیم الشان نتائج کو لوگ محسوس کریں گے اور یہ امر کشمیر کی آزادی کی پہلی بنیاد ہے۔اور اس کی وجہ سے اہل کشمیر پر زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو گا مجھے اس تغیر پر دوہری خوشی ہے کیونکہ اس مطالبہ کا خیال سب سے پہلے میں نے پیدا کیا تھا۔اور زور دے کر اس کی اہمیت کو منوایا تھا بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ مطالبہ مانا نہیں جاسکتا۔مگر اللہ تعالٰی کا محض فضل ہے کہ آخر یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔اسی طرح پریس کی آزادی کے متعلق جدید قوانین کا وعدہ بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہے شاملاتوں کی ناواجب تقسیم کا انسداد اخروٹ کا درخت کاٹنے کی مکمل اور چنار کا مشروط آزادی لکڑی کے مبیا کرنے کے لئے سہولتیں بعض علاقوں میں کاہ چرائی کا ٹیکس معاف ہونا۔تعلیم اور ملازمتوں میں سہولتیں ، ہانجیوں کی مشکلات کا ازالہ اور ایسے ہی بہت سے امور ہیں کہ جن میں اصلاح ایک نہایت خوشکن امر ہے اور انشاء اللہ اس سے ریاست کشمیر کی رعایا کو بہت فائدہ پہنچے گا۔بعض باتیں ابھی باقی ہیں۔جیسے وزارت کے متعلق فیصلہ۔انجمنوں اور تقریر کی آزادی - مالیہ کو صحیح اصول پر لانا۔آرڈی نینسوں کو اڑانا۔اور قیدیوں کی عام آزادی کا اعلان۔مسلمان ہونے والوں کی جائیدادوں کی ضبطی جن کے متعلق فیصلہ یا نہیں ہوایا ناقص ہوا ہے یا بالکل خلاف ہوا ہے۔مجھے ان کا خیال ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آخر ان امور میں بھی انشاء اللہ ہمیں کامیابی حاصل ہوگی۔