تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 600 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 600

تاریخ احمدیت جلد ۵ 588 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد سید برادران ! میں اپنے گزشتہ خطوں میں لکھ چکا ہوں کہ عنقریب اللہ تعالٰی کے فضل سے آپ کے مطالبات کا ایک حصہ پورا ہونے والا ہے۔چنانچہ اس وقت تک آپ لوگوں کو کلینسی کمیشن کی رپورٹ کا خلاصہ معلوم ہو چکا ہو گا۔اس رپورٹ کے متعلق میں تفصیلاً لکھنا مناسب نہیں سمجھتا، کیونکہ گو مجھے اس کے مضمون سے پہلے سے آگاہی تھی بلکہ اس کے لکھے جانے سے بھی پہلے مجھے اس کے بعض مطالب سے آگاہی تھی۔لیکن پھر بھی اس کی مطبوعہ شکل میں چونکہ میں نے اسے پوری طرح نہیں پڑھا اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے خاص اجلاس میں بھی اس پر غور نہیں ہوا۔اس لئے اس پر تفصیلی رائے کا اظہار کرنا ابھی مناسب نہیں ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ گو یہ رپورٹ میری خواہشات کو کلی طور پر پورا کرنے والی نہیں لیکن پھر بھی اس میں کافی مواد ایسا موجود ہے جس پر مسلمانوں کو بھی خوش ہونا چاہیئے اور مہاراجہ صاحب بہادر کو بھی۔کیونکہ انہوں نے اپنی رعایا کے حقوق کی طرف توجہ کر کے اپنی نیک نفسی کا ثبوت دیا ہے اس طرح اس رپورٹ کے لکھنے پر مسٹر کلینسی بھی خاص مبارکباد کے مستحق ہیں۔اور ان کے ساتھ کام کرنے والے نمائندے بھی کہ انہوں نے رعایا کے حقوق ادا کرنے کی سفارشات کی ہیں خواہ وہ مسلمانوں کے مرض کا پورا علاج نہ بھی ہوں میں خصوصیت سے اپنے باہمت نوجوان چوہدری غلام عباس صاحب اور دیرینہ قومی کارکن خواجہ غلام احمد صاحب اشائی کو شکریہ کا مستحق سمجھتا ہوں کہ انہوں نے نہایت محنت اور تکلیف برداشت کر کے مسلمانوں کے نقطہ نگاہ کو پیش کرنے کی کوشش کی چودھری غلام عباس صاحب نے اس نیک کام میں اپنوں اور بیگانوں سے جو برا بھلا سنا ہے میں امید کرتا ہوں کہ ان کے دل پر اس کا کوئی اثر نہیں رہے گا۔کیونکہ انہوں نے خلوص سے قومی خدمت کی ہے اور یقینا اللہ تعالی ان کی قربانی کو ضائع نہیں کرے گا۔اگر موجودہ نسل ان کی قربانی کی داد نہ بھی دے تو بھی آئندہ نسلیں انہیں ضرور دعاؤں سے یاد کریں گی۔انشاء اللہ تعالٰی میں امید کرتا ہوں که دوسری کلینسی رپورٹ ایک نیا دروازہ سیاسی میدان کا مسلمانوں کے لئے کھول دے گی۔اور گودہ بھی یقینا مسلمانوں کی پوری طور پر دادرسی کرنے والی نہ ہوگی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھی ان کی زندگی کے نقطہ نگاہ کو بدلنے والی اور آئندہ منزل کی طرف ایک صحیح قدم ہاں مگر ایک چھوٹا قدم ہو گی۔میں اس وقت نہ تو یہ کہتا ہوں کہ ہمیں ان رپورٹوں پر افسوس کرنا چاہئے کیونکہ ان میں یقیناً اچھے امور ہیں اور ایسی باتیں ہیں کہ اگر انہیں صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔تو یقیناً مسلمان آزادی حاصل کرنے کے قریب ہو جائیں گے اور نہ ہی یہ کہتا ہوں کہ ہمیں خوش ہونا چاہئے۔کیونکہ ابھی ہمارا بہت سا کام پڑا ہے۔اور اسے پورا کئے بغیر ہم دم نہیں لے سکتے نیز ہمیں یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ صرف قانون