تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 599 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 599

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 587 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ الدین صاحب اور دو سرے قومی لیڈر اور قومی کارکن آزاد ہو کر ملک کی رہنمائی کر سکیں۔جن لوگوں نے خود تکلیف اٹھا کر اپنی قوم کو بیدار کیا ہے خواہ وہ قید میں ہیں یا آزاد ہم ان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ایک خوشخبری میں اور دیتا ہوں کہ اس وقت سب سے زیادہ تکلیف لوگوں کو مقدمات کی تھی کیونکہ باہر سے وکیل آنے کی اجازت نہ تھی۔اور ریاستی وکلاء میں مسلمان بہت کم تھے اور ان میں سے تجربہ کار اور بھی کم تھے۔میں نے چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر برادر خورد چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر کو اس کام کے لئے جموں بھجوایا تھا۔جنہوں نے آنریبل مسٹر دلال چیف جسٹس ریاست جموں و کشمیر سے گفتگو کی اور چیف جسٹس صاحب نے اجازت کی ضرورت کو تسلیم کر کے حکومت کے پاس اس قید کے اڑانے کی سفارش کی مہاراجہ صاحب نے عنایت فرما کر پہلے قانون میں تبدیلی کر دی ہے اور اب چیف جسٹس صاحب کی اجازت سے باہر کے وکلاء بغیر کسی خاص فیس ادا کرنے کے مقدمات میں پیش ہو سکیں گے اس سے امید ہے کہ وہ بے اطمینانی جو پیدا ہو رہی تھی دور ہو جائے گی۔اور لوگوں کو ان الزامات کے دور کرنے کا کافی موقع مل جائے گا۔جو بعض متعصب افسروں نے بلا وجہ ان پر لگا دیئے ہیں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ اس غرض کے لئے قومی درد رکھنے والے وکلاء انشاء اللہ میسر آجائیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ جلد بعض دوسری تکالیف کا بھی ازالہ ہو جائے گا۔اور آپ لوگوں کو آرام کا سانس لینا میسر ہو گا۔خدا کرے کہ میری یہ امید ٹھیک ہو۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کے نام میرا ساتواں خط (سلسلہ دوم)