تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 596
تاریخ احمدیت جلد ۵ 584 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه میرے نزدیک فور انکل آنے کی بجائے بہتر ہو تاکہ پہلے ہم لوگوں کو کوشش کرنے دی جاتی۔اب بھی میں ان بھائیوں کو یہی نصیحت کروں گا کہ وہ اس اپنے علاقہ میں چلے جائیں اور ہمیں اپنی بہتری کے لئے کوشش کرنے دیں اگر ہم سے کچھ نہ ہو سکا تو ہم خود ان سے کہہ دیں گے کہ اب آپ لوگوں کے لئے ملک چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔مگر پوری کوشش کئے بغیر اور حکومت کو اصلاح کا موقع دینے سے پہلے نکلنا زیادہ مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔میں ایک دفعہ پھر برادران ریاست کشمیر کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دوسرے ممبران کے پورے خیر خواہ ہیں اور انشاء اللہ جہاں تک ان کی طاقت میں ہے۔وہ اس کام کو معقول اصول پر جاری رکھیں گے اور نہ میں اور نہ کوئی اور ممبر انشاء اللہ اس قسم کے اعتراضات سے ید دل ہو گا۔کیونکہ اگر ہم ایسا کریں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم میں سچا قو می درد نہیں۔ہم انشاء اللہ آپ لوگوں کی تکلیفوں کو دور کرنے میں پوری سعی کریں گے اور کر رہے ہیں۔چار تاریخ کو کمیٹی کی طرف سے ایک وفد ہز ایکسی نسی وائسرائے کی خدمت میں کشمیر کے متعلق پیش ہونے والا ہے۔وکلاء کے لئے بھی ہم اجازت طلب کر رہے ہیں اور جس حد تک ممکن ہو گا ہم لوگ انشاء اللہ ریلیف کا کام بھی کریں گے۔ہاں آپ لوگوں سے ہم یہ خواہش ضرور رکھتے ہیں کہ ہمارے تجربہ سے جہاں تک ہو سکے فائدہ اٹھا ئیں اور ایسے رنگ میں کام کریں کہ غریبوں اور کمزوروں کا نقصان نہ ہو اور ملک تباہ نہ ہو بلکہ ترقی کرے۔خاکسار مرزا محمود احمد اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ حو الناصر مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کے نام میرا چھٹا خط (سلسلہ دوم) برادران! میں اپنے پچھلے خط میں لکھ چکا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی آپ لوگوں کی تکالیف کے متعلق پوری کوشش کر رہی ہے اور میں نے یہ ذکر بھی کیا تھا کہ ایک وفد چار تاریخ کو جناب وائسرائے صاحب کی خدمت میں پیش ہونے والا ہے جو آپ لوگوں کی تکالیف کے متعلق آپ سے تفصیلی گفتگو