تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 597 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 597

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 585 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ کرے گا۔یہ وفد چار تاریخ کو پیش ہوا۔اور اس کے ممبر مندرجہ ذیل اصحاب تھے۔(1) نواب عبد الحفیظ صاحب ڈھاکہ (۲) خواجہ حسن نظامی صاحب (۳) مولانا شفیع داؤدی صاحب (۴) نواب صاحب کنچپوره (۵) سید مسعود احمد شاہ صاحب بہار (۶) اے۔ایچ غزنوی صاحب بنگال (۷) سید محسن شاہ صاحب (۸) خان بہادر رحیم بخش صاحب (۹) ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب لاہور (۱۰) سید حبیب صاحب (۱) ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب یو - پی (۱۲) شیخ فضل حق صاحب بھیرہ (۱۳) کپتان شیر محمد صاحب دو میلی (۱۴) چودھری ظفر اللہ خان صاحب (۱۵) مولوی عبد الرحیم صاحب درد۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کسی مجبوری کی وجہ سے وفد میں شامل نہ ہو سکے۔وفد نے جو ایڈریس حضور وائسرائے کی خدمت میں پیش کیا اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔کشمیر کی ریاست میں ایک لیے عرصہ سے عملاً ہندوؤں کو ہی حکومت میں حصہ دیا جاتا ہے مسلمان بہت کم اور النادر کالمعدوم کی حیثیت میں ہیں۔حالانکہ ان کی آبادی ستانوے فی صدی ہے نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو انتظامی اور قانونی دونوں شکنجوں میں اس طرح کس دیا گیا ہے کہ وہ ترقی نہیں کر سکتے۔ایک لمبے عرصہ تک صبر کرنے کے بعد اب مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے بالکل جائز طور پر اپنے حقوق کا مطالبہ شروع کیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ہند اس بارہ میں ان کی امداد کرے گی۔اسی غرض کے پورا کرنے کے لئے جو کمیشن مقرر کیا گیا ہے۔ہمیں افسوس ہے کہ اس میں مسلمانوں کی نہ تو صحیح نمائندگی ہے اور نہ کافی نمائندگی ہے۔اس کا تدارک ہونا چاہئے۔مگر صرف اسی قدر اصلاح سے کام نہیں چلے گا چاہئے کہ کشمیر کے مسلم لیڈروں کو آزاد کر کے اس مشورہ میں شریک کیا جائے اور دوسرے سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کر کے فضاء صاف کی جائے۔موجودہ فسادات میں جو مقدمات چلائے جا رہے ہیں اس پر مسلمانوں میں بے چینی ہے ریاست کے افسر جن پر خود الزام ہے آزاد تحقیقات نہیں کر سکتے۔اس لئے ریاست کے باہر سے قابل اعتماد حج بلہ اکر مقدمات ان کے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔ہمیں مختلف ذرائع سے رپورٹیں ملی ہیں کہ بعض حکام نے سخت مظالم کئے ہیں اور فسادات کو اپنے بغض نکالنے کا ذریعہ بنالیا ہے اور اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کھڑی کے علاقہ سے ہزاروں آدمی نکل کر انگریزی علاقہ میں چلے آئے ہیں اس کا علاج ہونا چاہئے۔جس کے لئے ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ فور اوہاں سے ان افسروں کو جن کے خلاف مسلمانوں کو شکایت ہے تبدیل کر دیا جائے اور ایک آزاد تحقیقات ان کے افعال کے متعلق کرائی جائے اس بارہ میں خصوصیت سے کشمیر کوٹلی ، راجوری اور