تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 594
تاریخ احمدیت جلد ۵ 582 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به کر کے گنہگار نہ بنتے اور سمجھ سے کام لیتے اور سوچتے کہ عزیزم ظفر اللہ خان صاحب وزارت کشمیر سے زیادہ اہم کام کر رہے ہیں۔اور اس سے بہت زیادہ ترقی کے سامان ان کے لئے خدا تعالٰی کے محض فضل سے میسر ہیں۔دوسرا اعتراض مجھ پر یہ کیا گیا ہے کہ میں نے کوشش کر کے انگریزوں کو ریاست میں داخل کیا ہے انگریزوں کے داخلہ کا واقعہ بھی اس طرح ہے کہ جب کشمیر میں شورش زیادہ ہوئی اور مجھے یہ آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ انگریز کشمیر میں گھس جائیں تو اچھا ہے تو میں نے اپنے ہاتھ سے ایک خط شیخ عبد اللہ صاحب ایم ایس سی لیڈر کشمیر کو لکھا اور رجسٹری کر کے بھیجا۔کہ انگریز افسروں کا آنا مفید نہیں مضر ہو گا۔اس لئے آپ لوگ اس قسم کا مطالبہ ہر گز نہ کریں۔اور یہی خیال میرا شروع سے ہے کیونکہ گو انگریز افسر بالعموم انصاف اور قواعد کی پابندی میں بہت سے ہندوستانیوں سے بڑھ کر ہوتا ہے لیکن انگریز انگریزی حکومت میں ہی مفید ہوتا ہے ریاستوں میں نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزوں میں بوجہ ان کی اپنے قومی کیریکٹر کے اعلیٰ ہونے کے یہ نقص ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کی بات کو زیادہ مانتے ہیں انگریزی علاقہ میں یہ بات چنداں مضر نہیں ہوتی۔کیونکہ یہاں انگریزی طریق ایک عرصہ سے جاری ہے۔اور نگرانی اس شدت سے ہوتی ہے کہ دیسی افسروں کو بھی قواعد کی پابندی اور محکمانہ دیانت کی عادت ہو گئی ہے ریاستوں میں یہ بات نہیں ہوتی پس وہاں کے جھوٹ سے جب انگریز کا اعتماد ملتا ہے تو بجائے ملک کو نفع پہنچنے کے نقصان پہنچتا ہے انگریز اسی وقت مفید ہوتے ہیں جب سب نظام انگریزی ہو اس نظام میں ان کی عادات بالکل پیوست ہو جاتی ہیں اور کام اچھا چلنے لگتا ہے پس اس خطرہ کی وجہ سے میرا ہمیشہ یہ خیال ہے کہ انگریزوں کے کشمیر میں چلے جانے پر ہندو افسر زیادہ ظلم کر سکیں گے کیونکہ وہ ظلم کر کے جھوٹی رپورٹ دیں گے اور انگریز افسر کو اگر دھو کہ لگ گیا۔اور اس جھوٹ پر اس کے سامنے پردہ پڑ گیا تو حکومت ہند اس انگریز افسر کے مقابلہ میں کسی اور کی بات نہیں سنے گی۔کیونکہ وہ سمجھے گی کہ ایک غیر جانبدار آدمی کا بیان زیادہ قابل اعتماد ہے اور اس سے ہمارے کام کو نقصان پہنچے گا یہ میرا خطرہ اب صحیح ثابت ہو رہا ہے چنانچہ مسلمانوں کی آواز حکومت ہند میں پہلی سی موثر نہیں رہی اور آئندہ کامیابی کے لئے ہمیں بہت زیادہ عقل اور بہت زیادہ علم اور آہستگی کی ضرورت ہے۔غرض شیخ عبد اللہ صاحب کے نام میرا خط اس امر کا شاہد ہے کہ انگریزوں کے لانے کی مجھے کوئی خواہش نہ تھی۔۔۔۔۔دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ بعض لوگوں نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں نے جو یہ اعلان کیا ہے کہ ایک دو ماہ میں کشمیر کے متعلق کوئی ایسا فیصلہ ہو جائے گا جو مسلمانوں کے حق میں مفید ہو گا یہ