تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 593
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 581 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ پہلی بات یہ ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جموں میں یہ بات مشہور کی جارہی ہے کہ سر ظفر علی خان صاحب کو میں نے کوشش کر کے نکلوایا ہے اور میری غرض یہ ہے کہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو ان کی جگہ وزیر مقرر کرواؤں مجھے افسوس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ بعض ذمہ دار لیڈروں نے بھی اس خیال کا اظہار کیا ہے اور عوام الناس میں بھی اس بات کا چر چاہے میں سمجھتا تھا کہ جس اخلاص اور محبت سے میں نے اہل کشمیر کا کام کیا تھا اس کے بعد اس قسم کی بدظنیاں پیدا نہ ہو سکیں گی۔لیکن افسوس کہ میرا یہ خیال غلط نکلا۔اگر محض اختلاف رائے ہو تا تو میں بالکل پرواہ نہ کرتا۔لیکن اس الزام میں میری نیت اور دیانت پر چونکہ حملہ کیا گیا ہے میں اس کا جواب دیتا ضروری سمجھتا ہوں لیکن پھر بھی نام نہ لوں گا تا کہ دوسروں کی بدنامی کا موجب نہ ہو۔اصل واقعہ یہ ہے کہ سر ظفر علی صاحب کے کشمیر پہنچنے کے معابعد بعض نمائندگان کشمیر نے مجھے ایسے واقعات لکھے جن سے یہ ظاہر ہو تا تھا کہ سر ظفر علی صاحب مسلمانوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے اور ایک واقعہ میر واعظ یوسف شاہ صاحب کے ساتھ ان کے سلوک کا خاص طور پر بیان کیا گیا تھا اس پر میں نے ولایت تار دیئے اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبروں اور ہمدردوں نے وہاں کوشش کی اور بعض ذمہ دار حکام نے بتایا کہ احرار کی تحریک کے کمزور ہوتے ہی سر ہری کشن کول اور مرزا سر ظفر علی صاحب کو کشمیر سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔یہ غالبا اکتوبر کا واقعہ ہے اس واقعہ سے معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اخراج کی تحریک خود کشمیر سے ہوئی۔اور اکتوبر میں اس کا فیصلہ بھی در حقیقت ہو چکا تھا۔گو خاص حالات کی وجہ سے اس پر عمل بعد میں ہوا۔پس اس کا الزام مجھ پر لگانا درست نہیں۔باقی رہا یہ الزام کہ میں نے یہ کوشش عزیز مکرم چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو وزیر بنانے کے لئے کی ہے اس کا جواب میں یہی دے سکتا ہوں کہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب کا میرے دل میں بہت احترام ہے لیکن مجھے یہ معلوم بھی ہو جائے کہ وہ کشمیر کی وزارت کی خواہش رکھتے ہیں تو میری رائے ان کی نسبت بدل جائے کیونکہ میں ان کو اس سے بہت بڑے کاموں کا اہل سمجھتا ہوں پس اس وجہ سے اس عہدہ کو ان کی ترقی کا نہیں بلکہ ان کے تنزل کا موجب سمجھوں گا۔علاوہ ازیں کشمیر کے وزیر کی تنخواہ غالبا تین ہزار کے قریب ہے لیکن چودھری ظفر اللہ خان صاحب اس وقت بھی چار اور پانچ ہزار کے در میان حکومت ہند سے وصول کر رہے ہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ زیادہ آمد والے کام سے ہٹا کر میں انہیں ایک تھوڑی تنخواہ والے کام پر لگنے کا مشورہ دوں خصوصاً جبکہ اس میں کوئی مزید ترقی اور مزید عزت کا بھی سوال نہیں۔پس جن لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے ان کی عقل ویسی ہی ہے جیسی کہ اس فقیر کی جس نے ایک ڈپٹی کو خوش ہو کر دعادی تھی کہ خدا تعالیٰ تجھے تھانہ دار بنائے۔کاش وہ بد ظنی