تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 589 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 589

تاریخ احمدیت جلد ۵ 577 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به اور مسلمان ریاستوں کے حالات یکساں نہیں دوسرے یہ بھی غلط ہے کہ ہندو مسلمانوں کے کشمیر کے معاملات میں دلچسپی لینے کی وجہ سے مسلمان ریاستوں کے خلاف شورش کریں گے وہ پہلے سے یہ کام کر رہے ہیں۔مسلمان کشمیر کے متعلق دلچسپی لیں یا نہ لیں انہوں نے مسلم ریاستوں میں بغیر وجہ کے بھی ضرور شورش پیدا کرنی ہے۔پس ہمیں ان لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہئے۔اور استقلال سے کشمیر کی آزادی کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہئے۔اور ایک سبب پر تو کل نہیں کرنا چاہیئے ہر جائز وسیلہ جس سے کام کے ہونے کی امید ہو ہمیں اختیار کرنا چاہئے۔اور اگر کسی کوشش کا نتیجہ حسب دلخواہ نہ نکلے تو نا امید نہیں ہونا چاہئے۔اس وقت سب سے بڑا آلہ آزادی کا سول نافرمانی سمجھا جاتا ہے پھر کیا یہ آلہ گزشتہ آٹھ سال میں کامیاب ہو گیا ؟ اگر وہ آٹھ سال میں کامیاب نہیں ہوا۔تو ہم نو ماہ میں اپنی کوششوں سے کیوں مایوس ہوں۔یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے خود ہی ہمارے لئے ایک راستہ مقرر کر چھوڑا ہے۔اور ہمیں درمیانی روکوں کی وجہ سے اس سے ادھر ادھر نہیں ہونا چاہئے۔اور وہ تو کل اور تبلیغ ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل پر یقین رکھنا اور انسانی فطرت پر یقین رکھنا کہ وہ زیادہ دیر تک دلیل کا مقابلہ نہیں کر سکتی یہی اصل کامیابیوں کی جڑ ہے۔اور یہی کمزوروں کا حربہ ہے۔جس سے وہ بغیر فوجوں کے جیت جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کو دیکھ لو۔آپ باوجود انتہائی کوشش کر چکنے کے اپنے مخالفوں سے ناامید نہیں ہوئے کیونکہ آپ کو اللہ تعالٰی کے وعدوں پر بھی یقین تھا اور آپ اس امر پر بھی یقین رکھتے تھے کہ انسانی فطرت زیادہ دیر تک معقولیت سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔آخر ایک دن وہی لوگ جو آپ کے دشمن تھے۔آپ کے تابع فرمان ہو گئے۔پس ہمارے آقا کا اسوہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ہمیں کسی اور کی نقل کی ضرورت نہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ایک طرف ہر مسلمان کے دل میں خواہ وہ کشمیر کا ہو یا باہر کا کشمیر کے مسئلہ سے دلچسپی پیدا کریں۔اور دوسری طرف ریاست کے حکام کو بھی اور انگریزوں کو بھی اپنے دعاوی کی معقولیت کا قائل کریں اور یہ نہ شبہ کریں کہ یہ لوگ ہماری بات نہیں مانیں گے۔کیونکہ جب ہم اپنی طاقت پر خود شک کرنے لگ جائیں۔تو ہماری بات کا دوسروں پر بھی اثر نہیں ہو تا ہمیں چاہئے کہ یقین رکھیں کہ ضرور ہماری بات اثر کرے گی۔دیکھو مسمریزم کرنے والا ایک جاگتے شخص کو کہنے لگتا ہے کہ تم سو گئے تم سو گئے اور وہ سو جاتا ہے۔پھر وہ اس سے جو کچھ چاہتا ہے منوالیتا ہے اگر وہ دوسرے سے جھوٹ متوالیتا ہے تو کیا ہم سچ نہ منوا سکیں گے ؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔بلکہ ضرور ہے کہ ایک دن یا ریاست کے حکام ہماری بات مان لیں اور مسلمانوں کے حق دے دیں اور یا انگریزی ہماری بات مان لیں۔اور ہمارے حق دلا دیں۔اسی طرح اگر ہم ریاست اور اس کے باہر مسلمانوں کو بیدار