تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 583
تاریخ احمدیت جلد ۵ 571 تحریک آزادی کشمیر او رجماعت احمدیہ ہمارے ایک بھائی کا دل اس طرح خوش ہو گیا۔مگر ایک سبق ہمیں ان جلسوں اور جلوسوں سے ملتا ہے اور وہ یہ کہ ریاست کا ان لوگوں کو جلسوں اور جلوس کی اجازت دیتا صاف بتاتا ہے کہ ریاست کے لئے اس میں فائدے ہیں اور وہ فائدے میرے نزدیک دو ہیں۔(1) اول فائدہ یہ ہے کہ ریاست اس طرح حکومت انگریزی کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ ریاست کے مسلمان باغی ہو گئے ہیں اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے وہ اپنے ایجنٹ مقرر کر رہی ہے۔(۲) دو سرا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح ریاست لوگوں پر یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ مسٹر عبد اللہ لیڈر کشمیر کی پارٹی کمزور اور تھوڑی ہے اور ان کے مخالف زور پر ہیں ریاست کے ہاتھ میں فوج ہے اور حکومت ہے۔وہ ظلم کے ساتھ ایک ہی قانون کو دو طرح استعمال کر سکتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے اور ہم بغیر فساد پیدا کرنے کے اس کی اس تجویز کو رد کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ریاست نے جلسوں سے تو آپ لوگوں کو روک دیا ہے لیکن وہ لباس پر تو کوئی پابندی نہیں لگا سکتی۔اس لئے میرے نزدیک آپ لوگ لباس کے ذریعہ سے اپنے خیالات کو ظاہر کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ جس قدر لوگ مسٹر عبد اللہ کے ہم خیال ہیں اور امن پسندی کے ساتھ اپنے حق لینا چاہتے ہیں اور سول نافرمانی کے حامی نہیں ہیں وہ اس امر کے ظاہر کرنے کے لئے کہ مسٹر عبد اللہ اور دو سرے لیڈروں کی قید سے انہیں تکلیف ہے اور دوسرے اس امر کو ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ بہر حال پر امن ذریعہ سے اپنے حقوق طلب کریں گے اور ریاست کے حکام کے جوش دلانے کے باوجود اپنے طریق کو نہیں چھوڑیں گے اپنے بازو پر ایک سیاہ رنگ کا چھوٹا سا کپڑا باندھ لیں یا اپنے سینہ بر ایک سیاہ نشان لنکالیں۔ایسے نشان سے بغیر ایک لفظ منہ سے نکالنے کے بغیر تقریر کرنے کے بغیر جلوس نکالنے کے آپ حکومت اور دوسرے لوگوں کو بتا سکیں گے کہ آپ مسٹر عبد اللہ کے ہم خیال ہیں اگر یہ تحریک ہر جگہ کے لیڈر کامیاب کر سکیں اور ملک کے ہر گوشہ میں ہر شخص خواہ مرد ہو خواہ عورت خواہ بچہ اس سیاہ نشان کا حامل ہو۔تو آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ بغیر جلسوں اور جلوس کے آپ لوگوں کی طرف سے اس امر کا اظہار ہوتا رہے گا کہ ایک طرف تو آپ لوگ مسٹر عبد اللہ کی قید پر احتجاج کرتے ہیں اور دوسری طرف ریاست کے ان ایجنٹوں کی پالیسی کے خلاف اظہار رائے کرتے ہیں۔جو اندر سے تو ریاست سے ملے ہوئے ہیں اور بظا ہر کامل آزادی کا مظاہرہ پیش کر کے تحریک کو کچلنا چاہتے ہیں۔اگر مختلف علاقوں کے لیڈر اس تحریک کو جاری کریں تو آپ لوگ دیکھیں گے کہ تھوڑے ہی دنوں میں ریاست اور اس کے ایجنٹ مرعوب ہونے لگیں گے۔اور ہر راہ چلتے آدمی کو معلوم ہو جائے گا کہ کشمیر کا بچہ بچہ شیر کشمیر اور دوسرے لیڈروں کے ساتھ ہے اور یہ کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ حقوق کا مطالبہ صرف چند لوگوں کی طرف سے ہے یا یہ کہ ریاست کشمیر کے لوگ فساد کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے دعوئی میں