تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 580
568 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ عہدہ پر جاہلوں اور نا قابلوں کا تقرر ہوتا ہے اور مہاراجہ صاحب کی حکومت کے چلانے کے لئے ایسے لوگ مقرر ہوتے ہیں جو ان خطوط کو ضبط کرتے ہیں جن میں پر امن رہنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔افسوس کہ مہاراجہ صاحب ان امور سے ناواقف ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے افسر خود ان کی حکومت کی جڑ پر تبر رکھ رہے ہیں اور ان کے ہاتھ سے کھا کر ان ہی کے ہاتھ کو کاٹ رہے ہیں ممکن ہے یہ لوگ دل سے خیال کرتے ہوں کہ مہاراجہ صاحب کی وفاداری کرتے ہیں لیکن مجھے تو شبہ ہے کہ یہ لوگ دل سے بھی مہاراجہ صاحب کے بد خواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ امن کی تعلیم دینے والوں کی کوششوں کو کمزور کر کے ریاست میں بغاوت پھیلا ئیں۔بہر حال اگر یہ لوگ مہاراجہ صاحب اور ریاست کے دشمن نہیں تو نہایت بے وقوف دوست ضرور ہیں۔عزیز دوستو! جو میرے پہلے خط کا حشر ہوا وہی اس خط کا بھی ہو سکتا ہے اس لئے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ آپ لوگ یہ احتیاط کیا کریں کہ میرا مطبوعہ خط ملتے ہی فورا اسے پڑھ کر دو سروں تک پہنچا دیا کریں تاکہ ریاست کے ضبط کرنے سے پہلے وہ خط ہر اک کے ہاتھ میں پہنچ چکا ہو اور تاکہ ہر مسلمان اپنے فرض سے آگاہ ہو چکا ہو اور بہتر ہو گا کہ جس کے ہاتھ میں میرا خط پہنچے وہ اس کا مضمون ان مردوں عورتوں اور بچوں کو سنا دے جو پڑھنا نہیں جانتے اور اگر ہو سکے تو اس کی کئی نقلیں کر کے دوسرے گاؤں کے دوستوں کو بھجوا دے اگر پورا خط نقل نہ ہو سکے تو اس کا خلاصہ ہی لکھ کر دوسرے دوستوں کو اطلاع کر دے۔۔ان ہدایات کے بعد میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کو خط لکھنے کے علاوہ میں نے اپنے نائبوں کو انگلستان میں بھی تاریں دیں کہ وہ کشمیر کے مظالم کی طرف وہاں کے حکام کو توجہ ولا ئیں اور کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری کو دہلی بھیجا تا کہ وہ حکومت ہند میں بھی آپ لوگوں کی تکالیف کو پیش کر کے داد خواہی کریں اور اسی طرح اپنے عزیز چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ممبر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کو بھی تار دی کہ وہ بھی حکام سے ملیں۔چنانچہ یہ لوگ وائسرائے کے پرائیوٹ سیکرٹری اور دوسرے سیکرٹریوں اور حکام سے ملے اور انہیں صورت حالات سے آگاہ کیا۔اسی طرح ولایت میں خان صاحب فرزند علی خان صاحب امام مسجد لنڈن نے میری ہدایت کے مطابق کوشش کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت کو دہلی اور لندن دونوں جگہ اصل حقیقت سے آگاہی ہو گئی اور ولایت کے اخبارات نے بڑے زور سے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ ریاست کا نظام پوری طرح بدل کر مسلمانوں کی داد خواہی کرنی چاہئے۔اور حکومت ہند نے بھی اس طرف توجہ کرنی شروع کی چنانچہ تازہ اطلاعات مظہر ہیں کہ اگر وزیر اعظم صاحب نے اپنا رویہ نہ بدلا تو شاید وہ چند دن میں اپنے عہدہ سے الگ کر دیئے جائیں گے۔اور جلد ہی دوسرے افسروں