تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 571 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 571

تاریخ احمدیت جلد ۵ 559 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ پہلے سے بہت زیادہ کام کرنا شروع کر دیا ہے۔چاروں طرف آدمی مسلمانوں کو حالات سے آگاہ کرنے کے لئے بھجوا دیئے ہیں اور چندہ پر بھی آگے سے بہت زیادہ زور دینا شروع کر دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ہر قسم کی مالی اور جانی امداد آپ کو بہم پہنچاتے رہیں گے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے تجویز کی ہے کہ پہلے اچھی طرح حکومت ہند پر تمام حجت کر دے۔اور اس کے لئے حضور وائسرائے کو توجہ دلائی جارہی ہے۔چنانچہ پرائیوٹ سیکرٹری صاحب کے تار سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت حکومت ہند اور ریاست میں تازہ مظالم کے متعلق خط و کتابت ہو رہی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اگر حکومت ہند فور ادخل دینے کے لئے تیار نہ ہو تو ہم لوگ خود ایسی تدابیر اختیار کریں جن سے حکومت ہند اور ریاست آپ لوگوں کے مطالبات پر غور کرنے کے لئے مجبور ہو۔ہر ایک کام میں تب ہی کامیابی ہوتی ہے جب پورے نظام سے کیا جائے۔اس لئے تمام پہلوؤں کو سوچ کر قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔پس میں آپ کو بھی یہ نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے ریاست کو خواہ مخواہ دخل دینے کا موقع ملے اور وہ بیرونی دنیا کو کہے کہ ہم تو مجبور ہو کر سختی کرتے ہیں۔ورنہ ابتداء مسلمانوں کی طرف سے ہے۔اب بھی وہ یہی کہتی ہے۔چنانچہ ایک معزز صاحب نے مجھے خط لکھا ہے کہ میں گاندھی جی کے ساتھ جہاز میں تھا۔میں نے انہیں کشمیر کے واقعات کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ میری یہ تحقیق ہے کہ سب شرارت مسلمانوں کی ہے۔اور ریاست مظلوم ہے وہ صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے سختی سے گاندھی جی کو توجہ دلائی کہ اس قدر بڑے لیڈر ہو کر آپ اس قدر تعصب سے کام لیتے ہیں اور بغیر تحقیق کے مسلمانوں کو ظالم قرار دیتے ہیں تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں بھی تم کو قسم دیتا ہوں کہ کشمیریوں کا مظلوم ہونا ثابت کرو۔ورنہ تم کو میں سخت بد دیانت سمجھوں گا۔آپ لوگ دیکھ لیں کہ گاندھی جی جیسے انسان کو جنہیں ہر دلعزیز بنے کا نہایت شوق ہے بعض حکام ریاست نے دھوکا دے کر اس قدر متعصب بنا دیا ہے تو دوسرے لوگوں کا کیا حال ہو گا۔پس آپ کو چاہئے کہ اپنے مظلوم ہونے کی حالت کو بالکل نہ بدلیں بید بے شک تکلیف دہ ہیں قید بے شک ایک مصیبت ہے لیکن ان تکلیفوں سے بہت زیادہ رسول کریم اللی نے اور آپ کے صحابہ نے برداشت کی تھیں۔ظلم کے پاؤں نہیں ہوتے ظلم بھی دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔کانٹوں کے ساتھ ہی پھول ہوتے ہیں۔گلاب کے درخت میں پہلے کانٹے لگتے ہیں پھر پھول آتا ہے پس ان کانٹوں کو صبر سے برداشت کرو۔تا گلاب کا پھول آپ کو دیا جائے۔اللہ تعالٰی آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔اس خط کے مضمون کو جہاں تک ہو سکے اپنے دوستوں تک پہنچاؤ۔حتی کہ کشمیر کا ہر مرد اور ہر عورت اور ہر بچہ اس کے مضمون سے آگاہ ہو جائے میں انشاء اللہ جلد ہی تیسرا خط آپ لوگوں کو لکھوں گا۔خدا کرے اس خط